تب سے ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے بتایا اور تب تک ہے جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے۔ ایسے علم کو علمِ عطائی کہتے ہیں ، جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکے متعلق ارشاد فرمایا:
’’وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘ (سورۂ انعام:۷۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم یونہی ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت دکھاتے ہیں۔
اس آیت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو مشاہدہ ِ ارض و سَماء کے ذریعے علم عطا کئے جانے کاذکر ہے۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمْ فِی الۡاَرْحَامِ کَیۡفَ یَشَآءُؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ﴿۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی ہے جوماؤں کے پیٹوں میں جیسی چاہتا ہے تمہاری صورت بناتا ہے ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ ) زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
{ہُوَ الَّذِیۡ یُصَوِّرُکُمْ فِی الۡاَرْحَامِ: وہی ہے جوماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورت بناتا ہے ۔} ایک بے قدر چیز کو انسانی شکل میں ڈھال دینا، اسے مرد یا عورت، گورا یا کالا، خوب صورت یا بدصورت بنانا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچے کی شکل بنانا، اس میں روح پھونکنا، اس کی تقدیر لکھنا یہ سب کچھ فرشتہ کرتا ہے لیکن فرشتہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اختیار سے کرتا ہے لہٰذا فرمایا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ تم میں سے ہر ایک کی خِلْقَت اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھی جاتی ہے، پھر وہ خون کے لوتھڑے کی صورت ہو جاتا ہے، پھر گوشت کی بوٹی کی طرح ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جسے چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل ،رزق، دنیا میں رہنے کی مدت اور بد بخت یا سعادت مند ہونا لکھو۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔
(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲/۳۸۱، الحدیث: ۳۲۰۸)