Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
436 - 520
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشٰبَہَ مِنْہُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖۚ؃ وَمَا یَعْلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللہُ ۘؔ وَالرَّاسِخُوۡنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖۙ کُلٌّ مِّنْ عِنۡدِ رَبِّنَاۚ وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلْبٰبِ﴿۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنٰی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتِباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کَجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتباہ ہے تووہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ (لوگوں میں ) فتنہ پھیلانے کی غرض سے اور ان آیات کا (غلط) معنیٰ تلاش کرنے کے لئے ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مطلب اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اورعقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔
{اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ: صاف معنیٰ رکھنے والی آیتیں۔} قرآن پاک میں دو طرح کی آیات ہیں : 
(1)… مُحْکَمْ، یعنی جن کے معانی میں کوئی اِشْتِبَاہ نہیں بلکہ قرآن سمجھنے کی اَہلیت رکھنے والے کو آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں۔
(2)… مُتَشَابِہْ، یعنی  وہ آیات جن کے ظاہری معنیٰ یا تو سمجھ ہی نہیں آتے جیسے حروفِ مقطعات ،یعنی بعض سورتوں کے شروع میں آنے والے حروف جیسے سورۂ بقرہ کے شروع میں ’’الٓمّٓ‘‘ہے اور یا متشابہ وہ ہے جس کے ظاہری معنیٰ سمجھ تو آتے