Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
434 - 520
نَزَّلَ عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَاَنۡزَلَ التَّوْرٰىۃَ وَالۡاِنۡجِیۡلَۙ﴿۳﴾ مِنۡ قَبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنۡزَلَ الْفُرْقَانَ ۬ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ ذُوانۡتِقَامٍ﴿۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری۔ لوگوں کو راہ دکھاتی اور فیصلہ اتارا بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری جوپہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس نے اس سے پہلے تورات اور انجیل نازل فرمائی۔ لوگوں کوہدایت دیتی اور (اللہ نے ) حق وباطل میں فرق اتارا ۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اوراللہ غالب بدلہ لینے والا ہے۔
{مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ: اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔} اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک کے بعد کوئی کتاب آنے والی نہیں اور نہ کوئی نیا نبی تشریف لانے والا ہے کیونکہ قرآن مجید نے گزشتہ کتابوں کی تصدیق کی ہے، بعد میں نہ کسی کتاب کے آنے کا تذکرہ کیا اور نہ اس کی بشارت دی جبکہ قرآن پاک کو چونکہ تورات و انجیل کے بعد آنا تھا اس لئے ان کتابوں میں قرآن کی بشارت پہلے سے دیدی گئی۔ 
اِنَّ اللہَ لَا یَخْفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ فِی الۡاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِؕ﴿۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:	   اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں نہ آسمان میں۔
ترجمۂکنزالعرفان:   بیشک اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ،نہ زمین میں اورنہ ہی آسمان میں۔
{اِنَّ اللہَ لَا یَخْفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ:بیشک اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔} آسمان و زمین کی ہر چیز، ہر وقت، تمام تر تفصیلات کے ساتھ بغیر کسی کی تعلیم و خبر کے جاننا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ،یہ وصف کسی بندے میں نہیں ، کیونکہ مخلوق کو جو علم ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے بتانے سے ہے اور وہ بھی مُتَناہی اور قابلِ فناہے، یعنی اس کی کوئی نہ کوئی انتہاء ہے اور وہ ختم بھی ہوسکتا ہے ، نیز وہ