Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
433 - 520
تو بتائیے ان کا باپ کون ہے؟ پھر وہ سب بولنے لگے۔ حضورِاکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’’کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ یعنی ملتا جلتا ہوتا ہے؟ انہوں نے اقرار کیا۔ پھر نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ ’’حَیٌّ لَایَمُوْتُ‘‘ ہے، اس کے لیے موت ناممکن ہے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر موت آنے والی ہے؟ انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا ۔ پھر تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمار ارب عَزَّوَجَلَّ بندوں کا کار ساز، ان کی حقیقی حفاظت کرنے والا اور روزی دینے والا ہے؟ انہوں نے کہا :جی ہاں۔ اس پرنبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ’’ کیا حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی ایسے ہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا ’’نہیں۔ اس پر نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ؟ انہوں نے اقرار کیا۔ حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ کیا حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بتائے بغیر اس میں سے کچھ جانتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:’’ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحمل میں رہے اور پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے اور بچوں کی طرح انہیں غذا دی گئی اور وہ کھاتے پیتے تھے اور ان میں بھی بشری تقاضے تھے؟ عیسائیوں نے اس کا اقرار کیا۔ اس گفتگو پر حضورِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ ان تمام چیزوں کے باوجود پھر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکیسے خدا ہوسکتے ہیں جیسا کہ تمہارا گمان ہے ؟ اس پر وہ سب خاموش رہ گئے اور ان سے کوئی جواب نہ بن سکا۔ اس پر سورہ ٔآلِ عمران کی شروع سے لے کر تقریبا اسّی 80آیتیں نازل ہوئیں۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲، ۱/۲۲۸) 
	اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ صحیح عقائد کو ثابت کرنے اور ان کے دفاع کیلئے مناظرہ کرنا سنت ہے۔
’’حَیُّ‘‘ اور’’ قَیُّوۡم ‘‘ کا معنی:
	اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات ’’حَیُّ‘‘ اور’’قَیُّوۡم‘‘ کا بیان ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں ’’حَیُّ ‘‘ ’’دائم و باقی‘‘ کے معنیٰ میں ہے ،یعنی اس کا معنیٰ ہے کہ’’ ایسا ہمیشہ رہنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو ۔ جبکہ ’’قَیُّوۡم‘‘ وہ ہے جو قائم بِالذّات یعنی بغیر کسی دوسرے کی محتاجی اور تَصَرُّف کے خود قائم ہو اور مخلوق کی دنیااور آخرت کی زندگی کی حاجتوں کی تدبیر فرمائے۔