بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزالعرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓمَّٓ ﴿۱﴾ۙاللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۙ الْحَیُّ الْقَیُّوۡمُؕ﴿۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں آپ زندہ اوروں کا قائم رکھنے والا۔
ترجمۂکنزالعرفان: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ) خود زندہ، دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے۔
{الٓمَّٓ :}ان حروف کو’’حروفِ مُقَطَّعات ‘‘ کہتے ہیں ،ان کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{اللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ:اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔} مفسرین نے فرمایا کہ’’ یہ آیت نجران نامی علاقے کے وفد کے متعلق نازل ہوئی جو ساٹھ افراد پر مشتمل تھا، اس میں چودہ سردار تھے اور تین قوم کے بڑے مقتدا و پیشوا آدمی تھے۔ ان تین میں سے ایک ’’ابو حارثہ بن علقمہ‘‘ تھا جو عیسائیوں کے تمام علماء اور پادریوں کا پیشوا ئے اعظم تھا، عیسائی حکمران بھی اس کی عزت کرتے تھے۔ یہ تمام لوگ عمدہ اور قیمتی لباس پہن کر بڑی شان وشوکت سے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے مناظرہ کرنے کے ارادے سے آئے۔ جب یہ مسجد نبوی شریف عَلٰی صَاحِبَہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں داخل ہوئے توحضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اس وقت نماز عصر ادا فرمارہے تھے۔ ان لوگوں کی نماز کا وقت بھی آگیا اور انہوں نے بھی مسجد نبوی شریف عَلٰی صَاحِبَہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی میں مشرق یعنی بیتُ المقدس کی طرف منہ کرکے اپنی نماز شروع کردی۔ نماز کے بعدنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے گفتگو شروع کی ۔ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :’’تم اسلام لے آؤ۔ انہوں نے جواب دیا کہ’’ ہم آپ سے پہلے اسلام لاچکے ہیں۔ سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’’ تمہارا اسلام کا دعویٰ غلط ہے اور تمہارے اسلام کے غلط ہونے کا سبب یہ ہے کہ تم کہتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اولاد ہے، نیز تمہارا صلیب کی پوجا کرنا بھی اسلام سے مانع ہے اور تمہارا خنزیر کھانا بھی اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’’ اگر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خدا کے بیٹے نہ ہوں