ترجمۂکنزالایمان: اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا سزادے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور جو کچھ تمہارے دل میں ہے اگر تم اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا تو جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزادے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
{وَ اِنۡ تُبْدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ: اور جو کچھ تمہارے دل میں ہے اگر تم اسے ظاہر کرو۔} انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں ایک بطور وسوسہ کے اور ایک بطورِ عزم و ارادہ کے۔ وسوسوں سے دِل کو خالی کرنا انسان کی قدرت میں نہیں لیکن آدمی انہیں برا سمجھتا ہے اور ان پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں کرتا، ان کو حدیث ِنفس اور وسوسہ کہتے ہیں ، اس پر مؤاخذہ نہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: کہ میری امت کے دلوں میں جو وسوسے آتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے تَجاوُز فرماتا ہے جب تک کہ وہ انہیں عمل میں نہ لائیں یا انہیں اپنے کلام میں نہ لائیں۔ (بخاری، کتاب العتق، باب الخطأوالنسیان فی العتاقۃ۔۔۔ الخ، ۲/۱۵۳، الحدیث: ۲۵۲۸)
یہ وسوسے اس آیت میں داخل نہیں۔ دوسرے وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور ان کو عمل میں لانے کا قصد و ارادہ کرتا ہے ان پر مؤاخذہ ہو گا اور انہی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اپنے دلوں میں موجود چیز کو تم ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تعالیٰ تمہارا ان پر محاسبہ فرمائے گا۔
حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’جو برا خیال دل میں بے اختیار اور اچانک آجاتا ہے،اسے ہاجِس کہتے ہیں ،یہ آنی فانی ہوتا ہے ، آیا اور گیا۔یہ پچھلی امتوں پر بھی معاف تھا اور ہمیں بھی معاف ہے لیکن جو دل میں باقی رہ جائے وہ ہم پر معاف ہے پچھلی امتوں پر معاف نہ تھا۔اگر اس(برے خیال) کے ساتھ دل میں لذت اور خوشی پیدا ہو تو اسے’’ہَمّ‘‘کہتے ہیں ،اس پر بھی پکڑ نہیں اور اگر ساتھ ہی کر گزرنے کا پختہ ارادہ بھی ہو تو وہ عَزم ہے، اس کی پکڑ ہے۔ (اشعۃ اللمعات، کتاب الایمان، باب الوسوسۃ، الفصل الاول، ۱/۸۵-۸۶)
کفر اور گناہ کے عزم کا شرعی کا حکم :
یاد رہے کہ کفرکا عزم کرنا کُفر ہے۔ (فتاوی رضویہ، ۱۵/۲۹۳)