Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
425 - 520
	 لہٰذ اگر کسی نے سو سال بعد بھی کفر کرنے کا ارادہ کیا وہ ارادہ کرتے ہی کافر ہوجائے گا۔ اور گناہ میں حکم یہ ہے کہ گناہ کا عزم کرکے اگر آدمی اس پر ثابت رہے اور اس کا قصد وارادہ رکھے لیکن اس گناہ کو عمل میں لانے کے اسباب اس کومُیَسَّر نہ آسکیں اور مجبوراً وہ اس کو نہ کر سکے تواکثر علماء کے نزدیک اس سے مؤاخذہ کیا جائے گا۔ امام ابو منصور ماتُریدِی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہی موقف ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ آیت ہے، : 
’’اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الْفٰحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ‘‘                             (سورۂ نور: ۱۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ 
	 نیزاس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں فرمایا گیا کہ بندہ جس گناہ کا قصد کرتا ہے اگر وہ عمل میں نہ آئے جب بھی اس پر عقاب کیا جاتا ہے۔				         (در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۴، ۲/۱۳۱)
	 ہاں اگر بندے نے کسی گناہ کا ارادہ کیا پھر اس پر نادم ہوا اور استغفار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمائے گا۔ 
شیطان کی انسان دشمنی:
	یاد رہے کہ انسان کے دل میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور بعض اوقات یہ وسوسے اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ انسان کے لئے اپنا دین و ایمان بچانا مشکل ہوجاتا ہے جیسے شیطان کبھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ،کبھی تقدیر کے بارے میں ،کبھی ایمانیات کے بارے میں ،کبھی عبادات کے بارے میں ،کبھی طہارت و پاکیزگی کے معاملات کے بارے میں اور کبھی طلاق کے بارے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔
	حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’شیطان فارغ ہے اور تم مشغول ومصروف ہو ۔ شیطان تمہیں دیکھتا ہے مگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ تم شیطان کو بھولے بیٹھے ہو مگر وہ تمہیں برائی میں مبتلاء کرنے سے نہیں بھولا ۔تمہارا نفس خود تمہارا دشمن و مخالف ہے اور شیطان کا مددگار ہے، اس لئے شیطان اور اس کے حامیوں سے جنگ کرنا اور انہیں مغلوب کرنا بہت ضروری ہے ورنہ اس کے فتنہ و فساد اور ا س کی ہلاکت و بربادی سے بچنا بہت مشکل ہے۔ 
(منہاج العابدین، العقبۃ الثالثۃ، العائق الثالثۃ، ص۵۵)
سرور دیں لیجئے اپنے ناتوانوں کی خبر		نفس و شیطاں سیدا کب تک دباتے جائیں گے