وَ اِنۡ کُنۡتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوۡا کَاتِبًا فَرِہٰنٌ مَّقْبُوۡضَۃٌ ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمۡ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمٰنَتَہٗ وَلْیَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ ؕ وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہٰدَۃَ ؕ وَمَنۡ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ﴿۲۸۳﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر تم سفر میں ہواور لکھنے والا نہ پاؤ تو گِرَو ہو قبضہ میں دیا ہوا اور اگر تم میں ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو وہ جسے اس نے امین سمجھا تھا اپنی امانت ادا کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اس کا دل گنہگار ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو (قرض خواہ کے) قبضے میں گِروی چیز ہو اور اگر تمہیں ایک دوسرے پر اطمینان ہوتو وہ (مقروض) جسے امانت دار سمجھا گیا تھا وہ اپنی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جاننے والا ہے۔
{وَ اِنۡ کُنۡتُمْ عَلٰی سَفَرٍ: اور اگر تم سفر میں ہو۔} یہاں گروی رکھنے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم حالت ِ سفر میں ہو اور قرض کی ضرورت پیش آجائے اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے یا لکھنے کا موقع نہ ملے کہ اوپر بیان کئے گئے حکم پر عمل ہوسکے تو مقروض قرض خواہ کے قبضے میں کوئی چیز رہن رکھوا دے ۔ ہاں اگر تمہیں ایک دوسرے پر اعتماد ہو اور اس وجہ سے تم کوئی تحریر وغیرہ نہ لکھو تو اب مقروض کو چاہیے کہ جب اسے امانت دار سمجھا گیا ہے تو وہ اس حسنِ ظن کو پورا کرے اور اپنی امانت یعنی قرض وقت پر ادا کردے اور اس ادائیگی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔
رہن کے چندمسائل:
(1)… قرض وغیرہ ادھار کے معاملات میں رہن رکھنے کا حکم استحبابی ہے۔
(2)… حالتِ سفر میں رَہن یعنی گروی رکھنا آیت سے ثابت ہوا اور غیر سفر کی حالت میں حدیث سے ثابت ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری اور سنن ترمذی میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مدینہ طیبہ میں اپنی زرہ مبارک یہودی کے پاس گروی رکھ کر بیس صاع جَو لئے تھے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب شراء النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالنسیئۃ، ۲/۱۰، الحدیث: ۲۰۶۹، ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی الرخصۃ فی الشراء الی الاجل، ۳/۸، الحدیث: ۱۲۱۹)