Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
421 - 520
ایک صورت یعنی مجہول کے اعتبار سے معنیٰ ہوگا کہ کاتبوں اور گواہوں کو ضرر یعنی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کاتب اور گواہ اپنی ضرورتوں میں مشغول ہوں تو انہیں اس وقت لکھنے پر مجبور کیا جائے، ان سے ان کا کام چھڑوایا جائے یا کاتب کو لکھنے کا معاوضہ نہ دیا جائے یا گواہ دوسرے شہر سے آیا ہو اور اسے سفر کا خرچہ نہ دیا جائے۔ دوسری صورت یعنی معروف پڑھنے میں معنیٰ یہ ہوگا کہ کاتب اور گواہ لین دین کرنے والوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ فرصت اورفراغت کے باوجود نہ آئیں یا لکھنے میں کوئی گڑبڑ کریں۔
(8)…آیت کے اس حصے  ’’وَاَشْہِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ‘‘ میں خریدوفروخت کرتے ہوئے گواہ بنالینے کا حکم ہے اور یہ حکم مستحب ہے۔
  گواہی کے احکام: 
	یہاں آیت میں گواہ کا مسئلہ بھی بیان کیا گیاہے، اس کی مناسبت سے گواہی کے چند احکام بیان کئے جاتے ہیں۔
(1)… گواہ کے لیے آزاد، عاقل، بالغ، اور مسلمان ہونا شرط ہے۔ کفار کی گواہی صرف کفار پر مقبول ہے۔
(2)… تنہا عورتوں کی گواہی معتبر نہیں خواہ وہ چار ہی کیوں نہ ہوں مگروہ معاملات جن پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے جیسا کہ بچہ جننا اور عورتوں کے خاص معاملات ان میں ایک عورت کی گواہی بھی مقبول ہے۔ 
(3)…حدودو قصاص میں عورتوں کی گواہی بالکل معتبر نہیں صرف مردوں کی شہادت ضروری ہے، اس کے سوا اور معاملات میں ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی مقبول ہے۔ 		(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۲، ص۱۴۴)
گواہی دینا فرض اور چھپانا ناجائز ہے:
 	اس آیت میں فرمایا گیا کہ ’’جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں ‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ گواہی دینا فرض ہے، لہٰذا جب مُدّعی گواہوں کو طلب کرے تو انہیں گواہی کا چھپانا جائز نہیں۔ یہ حکم حدود کے سوا اور معاملات میں ہے، حدود میں گواہ کوبتانے اور چھپانے دونوں کا اختیار ہے بلکہ چھپانا افضل ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی حدیث شریف میں ہے ، سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہتبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب الستر علی المؤمن۔۔۔ الخ، ۳/۲۱۸، الحدیث: ۲۵۴۴)
	 لیکن چوری کے معاملے میں مال لینے کی گواہی دینا واجب ہے تاکہ جس کا مال چوری کیا گیا ہے اس کا حق تَلف نہ ہو، البتہ گواہ اتنی احتیاط کرسکتا ہے کہ چوری کا لفظ نہ کہے اور گواہی میں یہ کہنے پر اِکتفا کرے کہ یہ مال فلاں شخص نے لیا۔