Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
420 - 520
{اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی: جب تم ایک مقرر مدت تک کسی قرض کا لین دین کرو۔} اس آیت میں تجارت اور باہمی لین کے دین کا اہم اصول بیان کیا گیا ہے اور مجموعی طور پر آیت میں یہ احکام دئیے گئے ہیں : 
(1)…جب ادھار کا کوئی معاملہ ہو، خواہ قرض کا لین دین ہو یا خریدوفروخت کا، رقم پہلے دی ہو اور مال بعد میں لینا ہے یا مال ادھار پر دیدیا اور رقم بعد میں وصول کرنی ہے، یونہی دکان یا مکان کرایہ پر لیتے ہوئے ایڈوانس یا کرایہ کا معاملہ ہو، اس طرح کی تمام صورتوں میں معاہدہ لکھ لینا چاہیے۔ یہ حکم واجب نہیں لیکن اس پر عمل کرنا بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں تو اس حکم پر عمل کرنا انتہائی اہم ہو چکا ہے کیونکہ دوسروں کا مال دبا لینا، معاہدوں سے مکر جانا اور کوئی ثبوت نہ ہونے کی صورت میں اصل رقم کے لازم ہونے سے انکار کرنا ہر طرف عام ہوچکا ہے۔ لہٰذا جو اپنی عافیت چاہتا ہے وہ اس حکم پر ضرور عمل کرلے ورنہ بعد میں صرف پچھتانا ہی نصیب ہوگا۔ اسی لئے آیت کے درمیان میں فرمایا کہ ’’ اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مدت تک لکھنے میں اکتاؤ نہیں۔
(2)…معاہدہ انصاف کے ساتھ لکھنا چاہیے، کسی قسم کی کوئی کمی بیشی یا ہیرا پھیری نہ کی جائے۔ اَن پڑھ آدمی کے ساتھ اس چیز کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔
(3)…اگر کسی کو خود لکھنا نہیں آتا، بچہ ہے، یا انتہائی بوڑھا یا نابینا وغیرہ تو دوسرے سے لکھوا لے اور جسے لکھنے کا کہا جائے اسے لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ لکھنا لوگوں کی مدد کرنا ہے اور لکھنے والے کا اس میں کوئی نقصان بھی نہیں تو مفت کا ثواب کیوں چھوڑے؟
(4)…لکھنے میں یہ چاہیے کہ جس پر ادائیگی لازم آرہی ہے وہ لکھے یا وہ لکھوائے۔
(5)…لین دین کا معاہدہ لکھنے کے بعد اس پر گواہ بھی بنالینے چاہئیں تاکہ بوقت ِ ضرورت کام آئیں۔گواہ دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتیں ہونی چاہئیں۔ 
(6)…گزشتہ احکام قرض اور ادھار کے حوالے سے تھے، اگر ہاتھوں ہاتھ کا معاملہ ہے یعنی رقم دی اور سودا لے لیا تو اس میں لکھنے کی حاجت نہیں جیسے عموماً دکانوں پر جاکر ہم رقم دے کر چیز خرید لیتے ہیں اوروہاں لکھا نہیں جاتا۔ ہاں اپنے حساب کتاب کیلئے بِل وغیرہ بنالینا مناسب ہے۔یونہی کوئی چیز وارنٹی پر ہوتی ہے تو بِل بنوایا جاتا ہے کہ بعد میں اُسی کی بنیاد پر وارنٹی استعمال ہوتی ہے۔ 
(7)…آیت میں لفظ ’’یُضَآرَّ‘‘ آیا ہے۔ عربی کے اعتبار سے اسے معروف اور مجہول دونوں معنوں میں لیا جاسکتا ہے۔