گا اور فضلِ الٰہی سے وہ صلہ سات سو گنا سے لے کر کروڑوں گنا تک ہوسکتا ہے۔
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ ضَرْبًا فِی الۡاَرْضِ۫ یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ تَعْرِفُہُمۡ بِسِیۡمٰہُمْۚ لَا یَسْئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ﴿۲۷۳﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: ان فقیروں کے لئے جو راہِ خدا میں روکے گئے زمین میں چل نہیں سکتے نادان انہیں تَوَنگَر سمجھے بچنے کے سبب تو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑ گڑانا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان فقیروں کے لئے جو اللہ کے راستے میں روک دئیے گئے ، وہ زمین میں چل پھرنہیں سکتے۔ ناواقف انہیں سوال کرنے سے بچنے کی وجہ سے مالدار سمجھتے ہیں۔ تم انہیں ان کی علامت سے پہچان لو گے۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے۔
{لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ: ان فقیروں کے لئے جو اللہ کے راستے میں روک دئیے گئے۔} گزشتہ آیات میں صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی یہاں بتایا گیا کہ ان کا بہترین مصرف وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو جہاد اور طاعتِ الٰہی کیلئے رو ک رکھا ہے۔ یہ آیت اہلِ صُفّہ کے حق میں نازل ہوئی ۔ان حضرات کی تعداد چار سو کے قریب تھی، یہ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے تھے ۔یہاں نہ ان کا مکان تھا اورنہ کنبہ قبیلہ اور نہ ان حضرات نے شادی کی تھی، ان کے تمام اوقات عبادت میں صرف ہوتے تھے ،رات میں قرآنِ کریم سیکھنا دن میں جہاد کے کام میں رہنا ان کا شب و روز کا معمول تھا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۳، ۱/۲۱۳)
صدقات کے بہترین مصرف:
انہی حضرات کی صف میں وہ مشائخ و علماء و طلبہ و مبلغین و خادمینِ دین داخل ہیں جو دینی کاموں میں مشغولیت کی وجہ سے کمانے کی فرصت نہیں پاتے۔ یہ لوگ اپنی عزت و وقار اور مروت کی وجہ سے لوگوں سے سوال بھی نہیں کرپاتے اور اپنے فقر کو چھپانے کی بھی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا گزارا بہت اچھا ہورہا ہے لیکن حقیقتِ