حال اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اگر کچھ غور سے دیکھا جائے تو ان لوگوں کی زندگی کا مشقت سے بھرپور ہونا بہت سی علامات و قرائن سے معلوم ہوجائے گا۔ ان کے مزاج میں تواضع اور انکسا ری ہوگی ،چہرے پر ضعف کے آثار ہوں گے اور بھوک سے رنگ زرد ہوں گے۔ درس: ہمارے ہاں دین کے اس طرح کے خادموں کی کمی نہیں اور ان کی غربت و محتاجی کے باوجود انہیں مالدار سمجھنے والے ناواقفوں اور جاہلوں کی بھی کمی نہیں۔ شاید ہمارے زمانے کا سب سے مظلوم طبقہ یہی ہوتا ہے۔ اس چیز کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو عالم اس لئے نہیں بناتے کہ یہ کھائیں گے کہاں سے؟ جب اس بات کا علم ہے تو یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ جو علماء و خادمینِ دین موجود ہیں وہ کیسے گزارا کر رہے ہوں گے؟ اصحابِ صفہ کی حالت پر مذکورہ آیت مبارکہ کا نزول صرف کوئی تاریخی واقعہ بیان کرنے کیلئے نہیں ہے بلکہ ہمیں سمجھانے، نصیحت کرنے اور ترغیب دینے کیلئے ہے۔ علماء و مُبَلِّغین کی گھروں کی پریشانیاں ختم کردیں پھر دیکھیں کہ دین کا کام کیسی تیزی سے ہوتا ہے۔ سمجھنے کیلئے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ان دس نکات کو پڑھ لیں جن میں بار بار علماء کی معاشی حالت سدھارنے کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا: ’’مولانا! روپیہ ہونے کی صورت میں اپنی قوت پھیلانے کے علاوہ گمراہوں کی طاقتیں توڑنا بھی اِنْ شَآءَ اللہ الْعَزِیز آسان ہوگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ گمراہوں کے بہت سے افراد صرف تنخواہوں کے لالچ سے زہر اگلتے پھرتے ہیں۔ ان میں جسے دس کی جگہ بارہ دیجئے اب آپ کی سی کہے گا، یا کم از کم بہ لقمہ دوختہ بہ توہوگا۔دیکھئے حدیث کا ارشاد کیسا صادق ہے کہ’’آخر زمانہ میں دین کا کام بھی درہم و دینار سے چلے گا۔(معجم الکبیر، ۲۰/۲۷۹، الحدیث: ۶۶۰)
اور کیوں نہ صادق ہو کہ صادق و مصدوق صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا کلام ہے، عالِم ما کان و مایکون صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خبرہے۔ (فتاوی رضویہ، ۲۹/۵۹۹-۶۰۰)
اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمۡ بِالَّیۡلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۲۷۴﴾ؔ
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر ان کے لئے ان کا نیگ ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔