Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
406 - 520
ہیں، نیز بلا صدقے سے آگے قدم نہیں بڑھاتی۔                                      ( فتاوی رضویہ، ۲۳/۱۳۷-۱۴۰، ملخصاً)
	 اکثر و بیشتر اعمال میں یہی قاعدہ ہے کہ وہ خفیہ اور اعلانیہ دونوں طرح جائز ہیں لیکن ریاکاری کیلئے اعلانیہ کرنا حرام ہے اور دوسروں کی ترغیب کیلئے کرنا ثواب ہے۔ مشائخ و علماء بہت سے اعمال اعلانیہ اسی لئے کرتے ہیں کہ ان کے مریدین و متعلقین کو ترغیب ہو۔ 
لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمْ وَلٰکِنَّ اللہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَلِاَنۡفُسِکُمْؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ اللہِؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنْ خَیۡرٍ یُّوَفَّ اِلَیۡکُمْ وَاَنۡتُمْ لَا تُظْلَمُوۡنَ﴿۲۷۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگوں کوہدایت دے دینا تم پر لازم نہیں ،ہاں اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور تم جو اچھی چیزخرچ کرو تو وہ تمہارے لئے ہی فائدہ مند ہے اورتم اللہ کی خوشنودی چاہنے کیلئے ہی خرچ کرو اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پوراپورا دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ 
{لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمْ: لوگوں کوہدایت دے دینا تم پر لازم نہیں۔} حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبشیر و نذیر اور داعی یعنی دعوت دینے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں ، آپ کا فرض دعوت دینے سے پورا ہوجاتا ہے اور اس سے زیادہ جدوجہد آپ پر لازم نہیں۔ یہ مضمون قرآن پاک میں بکثرت بیان کیا گیا ہے۔ 
{وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنْ خَیۡرٍ: اور تم جو اچھی چیزخرچ کرو۔} ارشاد فرمایا گیا کہ تم جو خرچ کرتے ہو اس کا فائدہ تمہیں ہی ہوگا کہ دنیا میں مال میں برکت اور آخرت میں ثواب کا ذخیرہ ہوگا۔ لہٰذا جب اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے تو جس پر خرچ کرتے ہو اس پر احسان نہ جتاؤ بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے خرچ کرو اور ایک ذرہ برابر دنیوی نفع حاصل کرنے کی تمنا نہ کرو، اخلاص کے ساتھ کئے گئے عمل کا ایک ذرہ بھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ بارگاہِ الٰہی سے برابر کا صلہ تو ضرور دیا جائے