Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
405 - 520
اس نذر کا مَصرَف اَولیاءُ اللہ کے غریب مُجاوِر بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔
(2)… نذر کی دوسری قسم یعنی لغوی نذر جسے عرفی نذر بھی کہتے ہیں جو نذرانہ کے معنیٰ میں ہے وہ مخلوق کے لئے بھی ہو سکتی ہے،جیسے بزرگانِ دین کیلئے نذر و نیاز کی جاتی ہے، مزارات پر چادر چڑھانے کی نذر مانی جاتی ہے۔ اس طرح کی نذروں کا پورا کرنا ضروری نہیں البتہ بہتر ہے۔ اس بارے میں تفصیل جاننے کیلئے فتاویٰ رضویہ کی 20ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے رسالے’’سُبُلُ الْاَصْفِیَاء فِیْ حُکْمِ الذَّبْحِ لِلْاَوْلِیَاء(اولیاء اللہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی طرف منسوب جانوروں کے ذبح کرنے کا جواز)‘‘کا مطالعہ فرمائیں۔
اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَۚ وَ اِنۡ تُخْفُوۡہَا وَتُؤْتُوۡہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْؕ وَیُکَفِّرُ عَنۡکُمۡ مِّنۡ سَیِّاٰتِکُمْؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ﴿۲۷۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اور اس میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر تم اعلانیہ خیرات دو گے تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگرتم چھپا کر فقیروں کو دو تویہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اور اللہ تم سے تمہاری کچھ برائیاں مٹا دے گا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
{اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ: اگر تم اعلانیہ خیرات دو گے۔} صدقہ خواہ فرض ہو یا نفل جب اخلاص کے ساتھ اللہ  تعالیٰ کے لئے دیا جائے اور ریا سے پاک ہو تو خواہ ظاہر کرکے دیں یا چھپا کر دونوں بہتر ہیں۔ لیکن صدقہ فرض کو ظاہر کرکے دینا افضل ہے اور نفل کو چھپا کر اور اگر نفل صدقہ دینے والا دوسروں کو خیرات کی ترغیب دینے کے لیے ظاہر کرکے دے تو یہ اِظہار بھی افضل ہے جیسے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمجمعِ عام میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سب کے سامنے صدقات پیش کرتے۔سیدُنا صدیقِ اکبر، سیدُنا عمر فاروق اور سیدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اعلانیہ صدقات میں یہی حکمت تھی۔ صدقات کی مزید فضیلت یہ بیان فرمائی کہ اس سے گناہِ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں۔ احادیث میں صدقہ کے بے پناہ فضائل مذکور ہیں ، جیسے صدقہ غضبِ الٰہی کو بجھاتا اور بری موت دور کرتا ہے۔ گناہ مٹاتا ہے۔ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے اوربری قضا ٹال دیتا ہے۔ صدقہ دینے سے روزی اور مدد ملتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے۔ آفتیں دور ہوتی