کیونکہ قرآن و حدیث سراپا حکمت ہیں اور فقہ اسی سرچشمہ حکمت و ہدایت سے فیض یافتہ علم ہے اور تقویٰ حکمت کا تقاضا ہے جبکہ نبوت سراسر حکمت ہے البتہ یہ بات قطعی ہے کہ ہمارے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد اب کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔
وَمَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمۡ مِّنۡ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللہَ یَعْلَمُہٗؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنْ اَنۡصَارٍ﴿۲۷۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تم جو خرچ کرو یا منت مانو اللہ کو اس کی خبر ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم جو خرچ کرو یا کوئی نذر مانو اللہ اسے جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
{وَمَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ: اور تم جو خرچ کرو۔ }یہاں آیت میں وعدہ اور وعید دونوں بیان کئے گئے ہیں کیونکہ فرمایا گیا کہ تم جو خرچ کروخواہ نیکی میں ، خواہ بدی میں یونہی تم جو نذر مانو، اچھے کام کی یا گناہ کے کام کی، ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے، تو اچھے عمل، خرچ اور نذر پر ثواب دے گا جبکہ گناہ کے عمل، خرچ اورنذر پر سزا دے گا۔
نذر کی تعریف اور ا س کے چند احکام:
یاد رہے کہ عرف میں ہدیہ اور پیش کش کونذر کہتے ہیں جیسے کسی بڑے کو کوئی چیز پیش کریں تو کہتے ہیں کہ جناب یہ آپ کی نذر کی۔ نذر کی دو قسمیں ہیں
(1)…نذرِ شرعی۔ شرع میں نذر عبادت اور قربتِ مقصودہ ہے اسی لئے اگر کسی نے گناہ کرنے کی نذر مانی تو وہ صحیح نہیں ہوئی۔ نذر خاص اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہے اور یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے نذر کرے اور کسی ولی کے آستانہ کے فُقراء کو نذر کے صَرف کرنے کی جگہ مقرر کرے مثلاً کسی نے یہ کہا یارب !عَزَّوَجَلَّ، میں نے نذر مانی کہ اگر تو میرا فلاں مقصد پورا کردے کہ فلاں بیمار کو تندرست کردے تو میں فلاں ولی کے آستانہ کے فقراء کو کھانا کھلاؤں یا وہاں کے خدام کو روپیہ پیسہ دوں یا ان کی مسجد کے لیے فلاں سامان مہیا کروں گا تو یہ نذر جائز ہے۔(ردالمحتار، کتاب الصوم، مطلب فی النذر الذی یقع للاموات۔۔۔ الخ، ۳/۴۹۱)
شرعی نذر صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے معنی ہیں غیر لازم عبادت کو لازم کرلینا، ہاں