ترجمۂکنزالایمان: شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا اور اللہ وسعت و الا علم والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: شیطان تمہیں محتاجی کااندیشہ دلاتا ہے اور بے حیائی کاحکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی طرف سے بخشش اور فضل کاوعدہ فرماتا ہے اور اللہ وسعت و الا، علم والا ہے۔
{اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ: شیطان تمہیں محتاج ہوجانے کااندیشہ دلاتا ہے۔} بغیر کسی دنیاوی مفاد کے رضائے الٰہی کیلئے خرچ کرنے کے فضائل کے بیان کے بعد اِس راہ میں پیش آنے والے سب سے بڑے وسوسے کا بیان کیا جا رہا ہے کہ شیطان طرح طرح سے وسوسے دلاتا ہے کہ اگرتم خرچ کرو گے ،صدقہ دو گے تو خود فقیر و نادا رہوجاؤ گے لہٰذا خرچ نہ کرو۔ یہ شیطان کی بہت بڑی چال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے وقت اس طرح کے اندیشے دلاتا ہے حالانکہ جن لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا جارہا ہوتا ہے وہی لوگ شادی بیاہ میں جائز و ناجائز رسومات پر اور عام زندگی میں بے دریغ خرچ کررہے ہوتے ہیں ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ شیطان تو تمہیں بخل و کنجوسی کی طرف بلاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ فرماتا ہے کہ اگر تم اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو وہ تمہیں اپنے فضل اور مغفرت سے نوازے گا اور یہ بھی یاد رکھو کہ وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ بڑی وسعت والا ہے، وہ صدقہ سے تمہارے مال کو گھٹنے نہ دے گا بلکہ اس میں اور برکت پیدا کردے گا۔
یُّؤۡتِی الْحِکْمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُۚ وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًاؕ وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلْبٰبِ﴿۲۶۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ حکمت دیتا ہے جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ جسے چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جسے حکمت دی جائے تو بیشک اسے بہت زیادہ بھلائی مل گئی اور عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔
{یُّؤۡتِی الْحِکْمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ:اللہ جسے چاہتا ہے حکمت دیتا ہے۔} حکمت سے قرآن، حدیث اور فقہ کا علم، تقویٰ اور نبوت مراد ہوسکتے ہیں۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۹، ص۱۳۹، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۹، ۱/۲۱۱، ملتقطاً)