تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تفسیر ’’نورُ العرفان‘‘ سرِ فہرست ہیں ، اور اب اسی فہرست میں ایک خوبصورت اور اہم اضافہ ’’صِرَاطُ الْجِنَان فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآن‘‘ کے نام سے آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کی چند خصوصیات درجِ ذیل ہیں :
(1)…قرآنِ مجید کی ہر آیت کے تحت دو ترجمے ذکر کئے گئے ہیں ، ایک اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بے مثل اور شاہکار ترجمہ ’’کنز الایمان ‘‘ ہے اور دوسرا موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آسان اردو میں کیا گیا ترجمہ ’’ کنز العرفان ‘‘ ہے جس میں زیادہ تر’’ کنز الایمان ‘‘ سے ہی استفادہ کیا گیا ہے ۔
(2)…قدیم و جدید تفاسیر اور دیگر علومِ اسلامیہ پر مشتمل معتبر اور قابلِ اعتماد علمائِ کرام بالخصوص اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی لکھی ہوئی کثیر کتابوں سے کلام اخذ کر کے سوائے چند ایک مقامات کے باحوالہ کلام لکھا گیا، نیز ان بزرگوں کے ذکر کردہ کلام کی روشنی میں بعض مقامات پراپنے انداز اور الفاظ میں کلام ذکر کیا گیا ہے۔
(3)…کتب ِ تفاسیر سے حوالہ جات ڈالنے میں ہر جگہ بعینہ عبارتوں کا ترجمہ کرنے کا التزام نہیں کیا گیا بلکہ بہت سی جگہوں پر خلاصہ کلام نقل کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے، اور جہاں ایک بات کئی تفسیروں سے نقل کی گئی ہے وہاں اس تفسیر کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے زیادہ تر مواد لیا گیا ہو۔
(4)… صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا شاہکار تفسیری حاشیہ ’’خزائن العرفان‘‘ تقریباً پورا ہی اس تفسیر میں شامل کر دیا گیا ہے اور ا س کے مشکل الفاظ کو آسان الفاظ میں بدل کر کلام کی تخریج اور تحقیق بھی کر دی گئی ہے ۔نیز مفتی احمد یارخان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حاشیہ’’ نور العرفان‘‘ سے بھی بہت زیادہ مدد لی گئی ہے اور اس کے بھی اکثروبیشتر حصے کو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
(5)… فی زمانہ عوامُ الناس بہت طویل اور علمی و فنی ابحاث پر مشتمل تفاسیر پڑھنے اور سمجھنے میں بہت دشواری محسوس کرتے ہیں ،اسی طرح مختصر حواشی سے بھی انہیں قرآنی آیات کا معنی و مفہوم سمجھنے میں بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے،ان کی اس پریشانی کو سامنے رکھتے ہوئے ’’صِرَاطُ الْجِنَان فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآن‘‘ میں اس بات کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے