کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور ا س کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے۔ (تفسیر قرطبی، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واہلہ، ۱/۴۱، الجزء الاول، ملخصاً)
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآنِ مجید سمجھ کر پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین
تیسراباب:
’’صِرَاطُ الْجِنَان فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآن‘‘
پر کام اور اس کی خصوصیات کا بیان
دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے سب مسلمانوں کی زبان عربی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمان اپنی اپنی علاقائی اور مادری زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں اور قرآنِ مجید کی تفاسیر کا زیادہ تر ذخیرہ چونکہ عربی زبان میں ہے اس لئے اہلِ عرب کے علاوہ دیگر علاقوں میں مقیم مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان تفاسیر سے استفادہ نہیں کر سکتی، اسی ضرورت و حاجت کے پیش نظر معتبر علمائِ کرام نے اکابرین کی لکھی ہوئی عربی تفاسیر اور علومِ اسلامیہ پر مشتمل دیگر قابلِ اعتماد کتابوں سے کلام اخذ کر کے دیگر زبانوں میں تفاسیر کی کتابیں ترتیب دیں تاکہ وہاں کے مسلمان بھی قرآنِ مجید کی روشن تعلیمات اور اس کے احکامات سے آگاہی حاصل کریں اور انہی حالات کی وجہ سے پاک و ہند میں بھی فارسی اور اردو میں بیشتر علمائِ کرام نے تفاسیر لکھیں جن میں سے شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی فارسی زبان میں لکھی گئی تفسیر’’فتحُ العزیز‘‘ صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی اردو زبان میں لکھی گئی مختصر تفسیر ’’خزائنُ العرفان‘‘ اور حکیمُ الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ