Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
388 - 520
غرض سے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام بری عادات کا منبع ہے اور اللہ  تعالیٰ کے دشمن شیطان کے نزدیک قابل تعریف ہے۔ باطنی برائیوں مثلاً تکبر، خود پسندی، حسد، بغض، پاکباز بننے اور حُبِّ جاہ وغیرہ کے ساتھ مناظرے کو وہی نسبت ہے جوشراب کو ظاہری برائیوں مثلاً زنا، الزام تراشی، قتل اور چوری وغیرہ کے ساتھ ہے اور جس طرح وہ شخص جسے شراب نوشی اور بے حیائی کے باقی کاموں کا اختیار دیا جائے تو وہ شراب نوشی کو معمولی سمجھ کر اختیار کرتا ہے ، پھر وہ نشے کی حالت میں باقی بے حیائیوں کا بھی مُرتکِب ہو جاتا ہے اسی طرح جس آدمی پر دوسروں کو نیچا دکھانے اور مناظرہ میں غالب آنے کی خواہش غالب ہو اور وہ جاہ و مرتبہ کا طالب ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دل میں تمام خَباثَتیں پوشیدہ ہیں اور یہ تمام مَذموم اخلاق اس میں ہیجان پیدا کرتے ہیں۔(احیاء العلوم، کتاب العلم، بیان آفات المناظرۃ۔۔۔ الخ، ۱/۶۹)
ہر شخص مناظرہ نہ کرے:
	یاد رہے کہ عقائد و نظریات ، معمولات اہلسنّت اور دیگر دینی مسائل میں کسی سے مناظرہ کرنا کوئی اتناآسان کام نہیں کہ جو چاہے ، جب چاہے اور جہاں چاہے کرنا شروع کر دے بلکہ اس کے لئے بہت زیادہ علم،مضبوط حافظہ،مہارت،تربیت،حاضر جوابی اور دیگر کئی چیزوں کا ہونا ضروری ہے جن کے بغیر مناظرہ کرنا انتہائی سخت جرأت اور اپنی گمراہی اور اخروی بربادی سے سے بے خوفی کی علامت ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ جس سے مناظرہ کر رہا ہے اس کی کوئی بات دل میں جم جائے اور یہ گمراہ ہو جائے ۔لہٰذا علم ِ مناظرہ کے ماہر علماء کے علاوہ کسی کو بھی مناظرہ کی اجازت نہیں۔ آج کل جو عام لوگ ایک آدھ کتاب پڑھ کر یا دو چار تقریریں یا مناظرے سن کر ہر راہ چلتے سے مناظرہ شروع کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں یہ طرزِ عمل شرعا ناجائز اور انتہائی خطرناک ہے۔ اس سے بچنا ضروری ہے۔ عوام کو کسی بھی صورت مناظرے اور بحث و مباحثے کی اجازت نہیں۔ ان پر لازم ہے کہ اپنے عقائدکو صحیح رکھیں اور بحث کی جگہ پر معاملہ علماء کے حوالے کردیں۔ پھر علماء کو بھی ہدایت یہ ہے کہ کسی اہم مقصد و فائدہ کے بغیر بلا ضرورت مناظرے کے میدان میں جانے سے گریز کریں جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا ہو، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں اس کو بھی کیا ضرور کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے ،ہاں اگر(اس ماہر عالم کو) ضرورت ہی آپڑے تو مجبوری ہے۔ اللہ(عَزَّوَجَلَّ)پر توکُّل کرکے ان ہتھیاروں سے کام لے۔(ملفوظات ،ص۴۳۴)
اَوْکَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَّہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَاۚ قَالَ اَنّٰی یُحْیٖ ہٰذِہِ اللہُ