بے جان نطفہ تھا جسے اس کریم نے انسانی صورت دی اور حیات عطا فرمائی نیز میرا خدا وہ ہے جو زندگی کے بعد پھر زندہ اجسام کو موت دیتا ہے۔ اس کی قدرت کی شہادت خود تیری اپنی موت و حیات میں موجود ہے لہٰذا اس خداوند ِ قدوس کے وجود سے بے خبر رہنا کمال درجے کی جہالت و حماقت اور انتہائی بدنصیبی ہے ۔یہ دلیل ایسی زبردست تھی کہ اس کا جواب نمرود سے بن نہ پڑا اور اس خیال سے کہ مجمع کے سامنے اس کو لاجواب اور شرمندہ ہونا پڑتا ہے اس نے خواہ مخواہ کی بحث شروع کردی چنانچہ نمرود نے دو شخصوں کو بلایا ان میں سے ایک کو قتل کردیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ میں بھی زندہ کرتا اور موت دیتا ہوں یعنی کسی کو گرفتار کرکے چھوڑ دینا اس کوزندہ کرنا ہے، یہ اس کی نہایت احمقانہ بات تھی، کہاں قتل کرنا اور چھوڑنا اور کہاں موت و حیات پیدا کرنا؟ قتل کئے ہوئے شخص کو زندہ کرنے سے عاجز رہنا اور بجائے اس کے زندہ کو چھوڑ دینے کو ’’زندہ کرنا‘‘ کہنا ہی اس کی ذلت کے لیے کافی تھا، عقل و شعور رکھنے والوں پر اسی سے ظاہر ہوگیا کہ جو دلیل و حجت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قائم فرمائی وہ ہر شک و شبہ کو کاٹ دینے والی ہے اور اس کا جواب ممکن نہیں لیکن چونکہ نمرود نے شرم مٹانے کیلئے کچھ نہ کچھ جواب دے ہی دیا تھا اگرچہ وہ سراسر باطل تھا لہٰذا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس پر مناظرانہ گرفت فرمائی کہ موت و حیات کا پیدا کرنا تو تیری قدرت میں نہیں، اے ربوبیت کے جھوٹے دعویدار! تو اس سے آسان کام ہی کرکے دکھا اوروہ یہ کہ ایک متحرک جسم کی حرکت کو بدل دے یعنی سورج جو مشرق سے طلوع ہوتا ہے اسے مغرب سے طلوع کردے۔ یہ سن کر نمرود ہَکَّا بَکَّا رہ گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔
عقائد میں مناظرہ کرنے کا ثبوت:
اس آیت سے عقائد میں مناظرہ کرنے کا ثبوت ہوتا ہے اور یہ سنت ِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہے، اکثر انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم کے مُنکِرین سے مناظرہ فرمایا، بلکہ خود حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے بھی نجران کے عیسائیوں سے مناظرہ کیا، لہٰذا مناظرہ کرنا برا نہیں ہے بلکہ سنت ِ انبیاء ہے البتہ اس میں جو تکبرو سرکشی اور حق کو قبول نہ کرنے کا پہلو داخل ہوگیا ہے وہ برا ہے اور علماء کرام میں سے جنہوں نے اس کی مذمت بیان کی ہے وہ اسی صورت سے متعلق ہے چنانچہ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی مشہور کتاب ’’احیاء ُالعلوم‘‘ میں مناظرے کے بارے میں اسی طرح کی چند اہم باتیں سمجھاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :’’ جو مناظرہ غلبہ حاصل کرنے، دوسروں کو لاجواب کر دینے، اپنے فضل و شرف کو ظاہر کرنے ،لوگوں کے سامنے منہ کھول کھول کر باتیں کرنے، فخر و تکبر نیز دوسروں کو ذلیل و رسوا کرنے کی