Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
389 - 520
بَعْدَ مَوْتِہَاۚ فَاَمَاتَہُ اللہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗؕ قَالَ کَمْ لَبِثْتَؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثْتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہۡۚ وَانۡظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ۟ وَلِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَانۡظُرْ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکْسُوۡہَا لَحْمًاؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۲۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: یا اس کی طرح جو گزرا ایک بستی پر اور وہ ڈھئی  پڑی تھی اپنی چھتوں پر، بولا اسے کیونکر جِلائے گا اللہ اس کی موت کے بعد تو اللہ نے اسے مردہ رکھا سو برس پھر زندہ کردیا، فرمایا تو یہاں کتنا ٹھہرا عرض کی دن بھر ٹھہرا ہوں گا یا کچھ کم، فرمایا نہیں بلکہ تجھے سو برس گزر گئے اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ اب تک بو نہ لایا اور اپنے گدھے کو دیکھ (کہ جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں ) اور یہ اس لئے کہ تجھے ہم لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور ان ہڈیوں کو دیکھ کیونکر ہم انہیں اٹھان دیتے پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں جب یہ معاملہ اس پر ظاہر ہوگیا بولا میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا (کیا تم نے ) اس شخص کو (نہ دیکھا) جس کا ایک بستی پر گزر ہوا اور وہ بستی اپنی چھتوں کے بل گری پڑی تھی تو اس شخص نے کہا: اللہ انہیں ان کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے اسے سو سال موت کی حالت میں رکھا پھراسے زندہ کیا، (پھر اس شخص سے) فرمایا: تم یہاں کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ اس نے عرض کی: میں ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم وقت ٹھہرا ہوں گا ۔ اللہ نے فرمایا: (نہیں ) بلکہ تو یہاں سوسال ٹھہرا ہے اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ اب تک بدبودار نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو دیکھ ( جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں ) اور یہ (سب) اس لئے (کیا گیا ہے) تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنادیں اور ان ہڈیوں کو دیکھ کہ ہم کیسے انہیں اٹھاتے (زندہ کرتے) ہیں پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں توجب یہ معاملہ اس پر ظاہر ہوگیا تو وہ بول اُٹھا: میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔