یہ فتاویٰ رضویہ کی 30ویں جلد میں موجود ہے، اس کا مطالعہ فرمائیں آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا۔اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں
خَلق سے اولیاء اولیاء سے رُسُل اور رسولوں سے اعلی ہمارا نبی
ملک کَونَین میں انبیاء تاجدار تاجداروں کا آقا ہمارا نبی
{وَلَوْ شَآءَ اللہُ: اور اگر اللہ چاہتا۔ }انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات کے بعد بھی ان کی امتیں ایمان و کفر میں مختلف رہیں ، یہ نہ ہوا کہ تمام امت مطیع و فرمانبردار ہوجاتی، یہ اللہ تعالیٰ کا نظامِ حکمت ہے۔ اگر وہ چاہتا تو کوئی بھی آپس میں نہ لڑتا لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے ملک میں اس کی مَشِیَّت کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا اور یہی خدا کی شان ہے۔ ہمیں صرف یہ حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر سرِ تسلیم خم کریں اور جو اس نے فرمایا ہے اس کے مطابق عمل کریں۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰکُمۡ مِّنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفٰعَۃٌ ؕ وَالْکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿۲۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اللہ کی راہ میں ہمارے دیئے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خرید فروخت ہے ، نہ کافروں کے لئے دوستی، نہ شفاعت اور کافر خود ہی ظالم ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت ہوگی اور کافر ہی ظالم ہیں۔
{اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰکُمۡ: ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرلو۔ }فکر ِ آخرت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے راہِ خدا میں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال خر چ کرلو۔ قیامت کا دن بڑی ہیبت والا ہے، اس دن مال کسی کو بھی فائدہ نہ دے گا اور دنیوی دوستیاں بھی بیکار ہوں گی بلکہ باپ بیٹے بھی ایک دوسرے سے جان چھڑا رہے ہوں گے اور کافروں کو کسی کی سفارش کام نہ دے گی اور نہ دنیوی انداز میں کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔ صرف اِذنِ الٰہی سے اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے شفاعت کریں گے جیسا کہ اگلی آیت یعنی آیتُ الکرسی میں آرہا ہے اور مال کا فائدہ بھی آخرت میں اسی صورت میں ہے جب دنیا میں اسے نیک کاموں میں خرچ کیا ہو اور دوستیوں میں سے بھی نیک لوگوں کی