دوستیاں کام آئیں گی جیسا کہ سورۂ زُخْرُف میں ہے: اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾(زخرف:۶۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: پرہیزگاروں کے علاوہ اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔
{وَالْکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ: اور کافر ہی ظالم ہیں۔}ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو غلط جگہ استعمال کرنا۔ کافروں کا ایمان کی جگہ کفر اور طاعت کی جگہ معصیت اور شکر کی جگہ ناشکری کواختیار کرنا ان کا ظلم ہے اور چونکہ یہاں ظلم کا سب سے بدتر درجہ مراد ہے اسی لئے فرمایا کہ کافر ہی ظالم ہیں۔
اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ؕ یَعْلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنْ عِلْمِہٖۤ اِلَّا بِمَاشَآءَۚ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَۚ وَلَا یَــُٔـوۡدُہٗ حِفْظُہُمَاۚ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیۡمُ﴿۲۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ خود زندہ ہے ، دوسروں کو قائم رکھنے والاہے، اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند ، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں سب اسی کا ہے ۔ کون ہے جو اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیرسفارش کرے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگ اس کے علم میں سے اتنا ہی حاصل کر سکتے ہیں جتنا وہ چاہے، اس کی کرسی آسمان اور زمین کو اپنی وسعت میں لئے ہوئے ہے اور ان کی حفاظت اسے تھکانہیں سکتی اور وہی بلند شان والا،عظمت والاہے۔