Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
380 - 520
کیا جائے تو سوائے ذاتِ اقدس کے یہ وصف کسی پر صادق ہی نہ آئے اور کسی اور طرف گمان ہی نہ جائے، حضور پُرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وہ خصائص وکمالات جن میں آپ تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فائق و افضل ہیں اور ان میں آپ کا کوئی شریک نہیں ، بے شمار ہیں کیونکہ قرآنِ کریم میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ درجوں بلند کیا اور ان درجوں کا کوئی شمار قرآنِ کریم میں ذکر نہیں فرمایا گیا تو اب ان درجوں کی کون حد لگاسکتا ہے ؟ان بے شمار خصائص میں سے بعض کا اجمالی اور مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کی رسالت عامہ ہے یعنی تمام کائنات آپ کی امت ہے، جیسا کہ اللہ  تعالیٰ نے ارشاد فرمایا 
وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا                       (سبا: ۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اے محبوب! ہم نے آپ کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ 
	دوسری آیت میں ارشادفرمایا: لِیَکُوۡنَ لِلْعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَۨا﴿۱﴾ۙ(فرقان: ۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تا کہ وہ تمام جہان والوں کو ڈر سنانے والا ہو۔ 
	مسلم شریف کی حدیث میں ارشاد ہوا ’’اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً ‘‘ میں (اللہ تعالیٰ کی ) تمام مخلوق کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں۔ 	     (مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، ص۲۶۶، الحدیث: ۵(۵۲۳))
	نیز آپ پر نبوت ختم کی گئی، قرآنِ پاک میں آپ کوخَاتَمَ النَّبِیّٖنَفرمایا گیا۔ 	       (احزاب:۴۰)
	حدیث شریف میں ارشاد ہوا ’’خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ‘‘ مجھ پر نبوت ختم کر دی گئی۔ 
(مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، ص۲۶۶، الحدیث: ۵(۵۲۳))
	نیز آپ کو تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے زیادہ معجزات عطا فرمائے گئے، آپ کی امت کو تمام امتوں پر افضل کیا گیا، حوضِ کوثر، مقامِ محمود، شفاعتِ کُبریٰ آپ کوعطا ہوئی، شبِ معراج خاص قرب ِ الٰہی آپ کو ملا، علمی و عملی کمالات میں آپ کو سب سے اعلیٰ کیا اور اس کے علاوہ بے انتہا خصائص آپ کو عطا ہوئے۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۳، ص۱۳۰-۱۳۱، جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۳، ۱/۳۱۰ ، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۳، ۱/۱۹۳-۱۹۴، بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۳، ۱/۵۴۹-۵۵۰، ملتقطاً)
	اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی افضلیت اپنی کتاب ’’تَجَلِّیُ الْیَقِین بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِین( یقین کا اظہار اس بات کے ساتھ کہ ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتمام رسولوں کے سردار ہیں )‘‘ میں دس آیتوں اور ایک سو حدیثوں سے ثابت کی ہے۔