Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
379 - 520
ہیں ، خصائص و کمالات میں فرق ہے، ان کے درجات مختلف ہیں ، بعض بعض سے اعلیٰ ہیں اور ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسب سے اعلیٰ ہیں ، یہی اس آیت کا مضمون ہے اور اسی پر تمام امت کا اجماع ہے۔ 
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۳، ۱/۱۹۳، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۳، ص۱۳۰، ملتقطاً)
	یہاں آیت میں بعض کو بعض سے افضل فرمایا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ یوں نہیں  کہنا چاہیے کہ بعض بعض سے ادنیٰ ہیں کہ یہ ادب کے مطابق نہیں۔ 
انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے فضائل بیان کرنے میں احتیاط:
	جب انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے باہمی فضائل بیان کئے جائیں تو صرف وہ فضائل بیان کریں جو قرآن مجید، احادیثِ مبارکہ یا اولیاء و محَقّق علماء سے ثابت ہوں ، اپنی طرف سے گھڑ کر کوئی فضیلت بیان نہ کی جائے اور ان فضائل کو بھی اس طرح بیان نہ کیا جائے جس سے معاذاللہ کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی تحقیر کا پہلو نکلتا ہو۔
تین انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خصوصی فضائل:
	اس آیت میں جملہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں سے بطور ِ خاص تین انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر فرمایا گیا۔ ایک حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کوہِ طور پر بلا واسطہ کلام فرمایا جبکہ یہی شرف سیدُ الانبیاء  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو معراج میں حاصل ہوا۔ دوسرے نبی جن کااس آیت میں تذکرہ ہے وہ حضرتِ عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جنہیں روشن نشانیاں عطا ہوئیں ، جیسے مردے کو زندہ کرنا، بیماروں کو تندرست کرنا، مٹی سے پرندہ بنانا، غیب کی خبریں دینا وغیرہ، نیز روحُ القُدُس یعنی حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ذریعے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تائید کی گئی جو ہمیشہ آ پ کے ساتھ رہتے تھے۔ تیسری وہ ہستی ہے جن کے بارے میں فرمایا کہ کسی کو ہم نے درجوں بلندی عطا فرمائی اور وہ ہمارے آقا و مولا، ملجاء و ماوٰی، حضور پر نور، سیدُ الانبیاء ،محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں کہ آپ کو کثیر درجات کے ساتھ تمام انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپرفضیلت عطا فرمائی، اس عقیدے پر تمام امت کا اجماع ہے اور یہ عقیدہ بکثرت احادیث سے ثابت ہے۔ اس آیت میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اِس رفعت ِمرتبہ کا بیان فرمایا گیا اور نامِ مبارک کی تصریح نہ کی گئی اس سے بھی حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بلندیِ شان کا اظہار مقصود ہے کہ ذاتِ والا کی یہ شان ہے کہ جب تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فضیلت کا بیان