Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
378 - 520
پارہ نمبر…3
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍۘ مِنْہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍؕ وَاٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوۡحِ الْقُدُسِؕ وَلَوْ شَآءَ اللہُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعْدِہِمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَلٰکِنِ اخْتَلَفُوۡا فَمِنْہُمۡ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ کَفَرَؕ وَلَوْ شَآءَ اللہُ مَا اقْتَتَلُوۡا۟ وَلٰکِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیۡدُ﴿۲۵۳﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسٰی کو کھلی نشانیاں دیں اور پاکیزہ روح سے اس کی مدد کی اور اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے آپس میں نہ لڑتے بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکیں لیکن وہ تو مختلف ہوگئے ان میں کوئی ایمان پر رہا اور کوئی کافر ہوگیا اور اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے مگر اللہ جو چاہے کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ رسول ہیں ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پرفضیلت عطا فرمائی ،ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند ی عطا فرمائی اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں دیں اور پاکیزہ روح سے اس کی مدد کی اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے آپس میں نہ لڑتے جبکہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکی تھیں لیکن انہوں نے آپس میں اختلاف کیا توان میں کوئی مومن رہا اور کوئی کافر ہوگیا اور اگراللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے مگر اللہجو چاہتا ہے کرتا ہے۔
{تِلْکَ الرُّسُلُ: یہ رسول ہیں۔} اس آیت میں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عظمت و شان کا بیان ہے اور یاد رہے کہ نبی ہونے میں تو تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبرابر ہیں اور قرآن میں جہاں یہ آتا ہے کہ ہم ان میں کوئی فرق نہیں کرتے اس سے یہی مراد ہوتا ہے کہ اصلِ نبوت میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں البتہ ان کے مَراتِب جداگانہ