Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
369 - 520
الْمَالِؕ قَالَ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىہُ عَلَیۡکُمْ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِؕ وَاللہُ یُؤْتِیۡ مُلْکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُؕ وَاللہُ وٰسِعٌ عَلِیۡمٌ﴿۲۴۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا :بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے ۔وہ کہنے لگے: اسے ہمارے او پر کہاں سے بادشاہی حاصل ہوگئی حالانکہ ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی ۔اس نبی نے فرمایا: اسے اللہ نے تم پر چن لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی ہے اور اللہ جس کو چاہے اپنا ملک دے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔
{وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا ۔} بنی اسرائیل نے چونکہ بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست دی تھی چنانچہ حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عصا ملا اور بتایا گیا کہ جو شخص تمہاری قوم کا بادشاہ ہوگا اُس کا قد اِس عصا کے برابر ہو گا۔ چنانچہ لوگوں کی پیمائش کرنے پر طالوت کا قداس عصا کے برابر نکلا تو حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا :میں تمہیں حکمِ الٰہی سے بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کرتا ہوں اور بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ  تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ 				  (جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۷، ۱/۳۰۳)
	بنی اسرائیل کے سرداروں نے اپنے نبی حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ نبوت تو لاوی بن یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں چلی آتی ہے اور سلطنت یہود بن یعقوب کی اولاد میں جبکہ طالوت ان دونوں خاندانوں میں سے نہیں ہے ،نیز یہ غریب آدمی ہے ، کوئی مال و دولت اس کے پاس ہے نہیں تو یہ بادشاہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اس سے زیادہ تو بادشاہت کے حقدار ہم ہیں۔ اِس معاملے میں یہ بنی اسرائیل کی پہلی نافرمانی تھی کہ اللہ  تعالیٰ کے حکم کے مقابلہ میں اپنا قیاس کیااور بلاوجہ کی بحث کی ۔انہیں بتایا گیا کہ سلطنت کوئی وراثت نہیں کہ کسی نسل اور خاندان کے ساتھ خاص ہو، اِس کا دارومدار صرف فضل الٰہی پر ہے ۔طالوت کو تم پر اللہ  تعالیٰ نے بادشاہ مقرر کیا ہے ۔ نیز وہ علم و قوت میں تم سے بڑھ کر ہے