اورچونکہ علم اور قوت سلطنت کے لیے بڑے معاون ہوتے ہیں اور طالوت اس زمانہ میں تمام بنی اسرائیل سے زیادہ علم رکھتا تھا اور سب سے جسیم اور توانا تھا اس لئے وہی بادشاہت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا ملک دے۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۷، ۱/۱۸۷)
طالوت کو بادشاہ بنانے کے واقعے سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس واقعہ سے بہت سی چیزیں معلوم ہوتی ہیں۔
(1)…حکمِ الٰہی کے مقابلے میں اپنے اندازے، تخمینے قائم کرنا ناجائز ہے۔
(2)…علم مال سے افضل ہے۔
(3)…حکمران ہونے کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ علم و قوت اور قابلیت و صلاحیت ہے۔
(4)…بغیر استحقاق کے نسل در نسل بادشاہت غلط ہے، ہر آدمی کو اس کی صلاحیت پر پرکھا جائے۔یہاں جسے بادشاہ مقرر کیا گیا اسے قد کے طول یعنی لمبائی کی وجہ سے طالوت کا نام دیا گیا۔ یہ بنیامین بن حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے تھے۔
وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ﴿۲۴۸﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسٰی او ر معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے، بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا: اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ تابوت آجائے گاجس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور معزز موسیٰ او ر معزز ہارون کی چھوڑی ہوئی چیزوں کا بقیہ ہے ، فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ بیشک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو۔