Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
368 - 520
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو نبی ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اتنی جلدی کیسے نبی بن گئے ،اچھا اگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی ہیں تو ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کریں۔  (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۶، ۱/۱۸۶)
 جب قوم کی اعتقادی اور عملی حالت خراب ہو تو کیا ہوتا ہے؟
	اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب قوم کی اعتقادی اور عملی حالت خراب ہوجاتی ہے تو ان پر ظالم و جابر قوموں کو مسلط کردیا جاتا ہے۔ اس آیت کو سامنے رکھ کر پوری دنیا کے مسلم ممالک کی اعتقادی و عملی حالت کو دیکھا جائے تو اوپر کا نقشہ بڑا واضح طور پر نظر آئے گا۔قرآن کے اس طرح کے واقعات بیان کرنے کا مقصد صرف تاریخی واقعات بتانا نہیں بلکہ عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی طرف لانا ہے۔ 
{ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا: ہمارے لئے بادشاہ مقرر کردیجئے۔}  جب بنی اسرائیل نے حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ ہمارے لئے بادشاہ مقرر کردیجئے تاکہ ہم راہِ خدا میں جہاد کریں تو حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم پر بادشاہ مقرر کیا جائے تو تم جہاد کرنے سے انکار کردو اور منہ پھیرو ۔ اس پر قوم نے جذبات میں آکر کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم جہاد سے منہ پھیریں جبکہ قومِ جالوت نے ہماری قوم کے لوگوں کو ان کے وطن سے نکالا ہے، ان کی اولاد کو قتل کیا ہے، ان کی نسلوں کو تباہ کیا ہے۔ یہ سن کرحضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی اور اللہ  تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول فرماتے ہوئے ان کے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیا اور انہیں جہاد کا حکم دیا لیکن بعد میں وہی ہوا جس کا اندیشہ اللہ  تعالیٰ کے نبی نے ظاہر فرمایا تھا یعنی بنی اسرائیل کی ایک بہت معمولی تعداد یعنی اہلِ بدر کے برابر صرف تین سو تیرہ افراد جہاد کیلئے تیار رہے اور بقیہ سب نے منہ پھیر لیا۔  (جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۲۴۶، ۱/۳۰۱-۳۰۲)
 بزدل قوموں کا وطیرہ:
	یاد رکھیں کہ نعرے مارنے میں آگے آگے ہونا اور عملی میدان میں پیٹھ دکھا دینا بزدل قوموں کا وطیرہ ہے اور کامل لوگ گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی ہوتے ہیں۔
وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوۡتَ مَلِکًاؕ قَالُوۡۤا اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیۡنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ