Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
36 - 520
ا س سے کہیں زیادہ نازک قرآنِ مجید کے ترجمہ وتفسیر کا معاملہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا معنی و مفہوم اور اس کی مراد بیان کرنی ہوتی ہے اور یہ کام سیکھے بغیر کرنا اور علم کے بغیر کرنا جہنم میں پہنچا دے گا۔ اس لئے اگرکسی کو تفسیر بیان کرنے کا شوق ہے تواسے چاہیے کہ باقاعدہ علومِ دینیہ سیکھ کر اس کا اہل بنے ۔امام حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیاکہ ان میں سے کوئی قرآنِ مجید کی آیت پڑھتا ہے اور وہ اس کے معانی سے جاہل ہو تا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا شروع کر دیتا ہے۔ (البحر المحیط، مقدمۃ المؤلف، الترغیب فی تفسیر القرآن، ۱/۱۱۸-۱۱۹)
	رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں ’’جس شخص نے قرآنِ مجید میں بغیر علم کچھ کہا اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ سمجھ لینا چاہئے۔   (ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ما جاء فی الذی یفسر القرآن برأیہ، ۴/۴۳۹، الحدیث: ۲۹۵۹)
تفسیر کے درجات:
	 تفسیرِ قرآن کے متعدد درجات ہیں ، مثلاً 
(1)…  تَفْسِیْرُ الْقُرْآنْ بِالْقُرْآنْ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تفسیر قرآنی آیات سے کی جائے کیونکہ قرآنِ مجید میں بعض جگہ ایک حکم بیان کیا جاتا ہے اور دوسری جگہ اس حکم کی مدت کے اختتام کا ذکر ہوتا ہے، اسی طرح ایک مقام پر کوئی بات مُبہم ذکر کی جاتی ہے اور دوسری جگہ اس اِبہام کو دور کر دیا جاتا ہے ،اس لئے تفسیرِ قرآن کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تفسیر خود ا س کی آیات سے کی جائے۔
(2)  تَفْسِیْرُ الْقُرْآن بِالْحَدِیث۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تفسیر تاجدار رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی احادیث سے کی جائے کیونکہ اللہ  تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کوقرآن مجید کے معانی، احکام اور تمام اسرار و رموز سکھا دئیے ہیں، اس لئے جب قرآنِ مجید کی تفسیر قرآنی آیت سے نہ ملے تو حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی احادیث سے ان کی تفسیر بیان کی جائے۔
(3)  تَفْسِیْرُ الْقُرْآنْ بِآثَارِ الصَّحَابَہ ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تفسیر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اقوال سے کی جائے کیونکہ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے براہِ راست حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے قرآنِ عظیم کی تعلیم حاصل کی اس لئے جب قرآنِ مجید کی تفسیر قرآنی آیات اور نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی احادیث سے نہ ملے تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اقوال کی روشنی میں آیاتِ قرآنی کی تفسیر بیان کی جائے۔