Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
37 - 520
(4)  تَفْسِیْرُ الْقُرْآنْ بِآثَارِ التَّابِعِینْ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی تفسیر تابعین کے اقوال کی روشنی میں کی جائے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے قرآنِ مجید کی تفسیر سیکھی ا س لئے جب قرآنی آیات، احادیث اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اقوال سے تفسیر نہ ملے تو تابعین کے اقوال سے تفسیر بیان کی جائے البتہ اس میں یہ لحاظ رہے کہ تابعی اگر کسی صحابی سے تفسیر نقل کر رہے ہیں تو ا س کا حکم وہی ہے جو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی بیان کردہ تفسیر کا ہے اور اگر تابعین کا اجماعی قول ہے تو وہ حجت ہے ورنہ نہیں۔ 
(5)  تَفْسِیْرُ الْقُرْآنْ بِاللُّغَّۃِ الْعَرَبِیَّہ۔ قرآنِ مجید کی بعض آیات ایسی ہیں جن کے مفہوم میں کوئی الجھن اور پیچیدگی نہیں بلکہ ان کا مفہوم بالکل واضح ہے ،ایسی آیات کی تفسیر کے لئے عربی لغت اور عربی قواعد ہی کافی ہیں البتہ وہ آیات جن کا مفہوم واضح نہیں یا جن سے فقہی احکام اخذ کئے جا رہے ہوں تو ان آیات کی تفسیر ما قبل مذکور چاروں ماخذ سے کی جائے گی اور ان کے بعد لغت عرب کو بھی سامنے رکھا جائے گا کیونکہ عربی زبان میں اس قدر وسعت ہے کہ اس میں ایک لفظ کے بسا اوقات کئی کئی معنی ہوتے ہیں۔
قرآن مجید کا اصلی ماخذ:
	 قرآن مجید کا اصلی ماخذ اور سرچشمہ اللہ  تعالیٰ کاعلم اور اس کی وحی ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَلَقَدْ جِئْنٰہُمۡ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ عَلٰی عِلْمٍ ہُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوۡنَ ﴿۵۲﴾‘‘  (اعراف: ۵۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک عظیم علم کی بنا پربڑی تفصیل سے بیان کیا، (وہ) ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔
 اور ارشاد فرمایا:  ’’وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الْہَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾‘‘ (نجم: ۳،۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ اپنی خواہش سے نہیں کہتے۔وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں کی جاتی ہے ۔ 
	 اس لئے قرآنِ مجید کی وہ اصطلاحات جن کے معنی و مفہوم کو قرآن اور صاحب ِقرآن کی وضاحت کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے جیسے ایمان ،اسلام ، نفاق،شرک، کفر، روح ، نفس، بَعث، صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج، صوم،رِبا،صدقہ اور اِنفاق وغیرہ،
 ان سب کا معنی نہ توعربی لغت سے متعین کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سمجھا جا سکتا ہے بلکہ ان کے معنی و مفہوم کے تعین کے لئے حضور پر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی طرف رجوع کرنا بہر صورت لازمی ہے اور ان کا جو معنی و مفہوم آپ