Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
35 - 520
تفسیر اور تاویل کی تعریف:
	مفسرین نے تفسیراور تاویل کی مختلف تعریفات کی ہیں ،ان میں سے تفسیر کی ایک تعریف یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے وہ احوال بیان کرنا جو عقل سے معلوم نہ ہو سکیں بلکہ ان میں نقل کی ضرورت ہو جیسے آیات کا شانِ نزول یا آیات کا ناسخ و منسوخ ہونا بیان کرنا۔ تاویلِ قرآن کی ایک تعریف یہ ہے کہ قرآنی آیات کے مضامین اور ان کی باریکیاں بیان کی جائیں اور صرفی و نحوی قواعد اور دیگر علوم کے ذریعے قرآنی آیات سے طرح طرح کے نکات نکالے جائیں۔
 تفسیر اور تاویل کا شرعی حکم:
	قرآنِ مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنا حرام ہے اور اپنے علم ومعرفت سے قرآن کی جائز تاویل بیان کرنا اہل علم کے لئے جائز اور باعث ثواب ہے۔ حضرت علامہ سلیمان جمل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ شرائط کے ساتھ تاویل بِالرّائے یعنی رائے سے تاویل کے جواز جبکہ تفسیر بالرائے یعنی رائے سے تفسیر کے ناجائز ہونے میں راز یہ ہے کہ تفسیر تواللہ تعالیٰ پر گواہی دینا اور اس بات کایقین کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ کے یہ ہی معنی مراد لئے ہیں اور یہ بغیر بتائے جائز نہیں ، اسی لئے امام حاکم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فیصلہ کر دیا کہ صحابی کی تفسیر مرفوع حدیث کے حکم میں ہے اور تاویل چند احتمالات میں سے بعض کو یقین کے بغیر ترجیح دینے کا نام ہے(اس لئے یہ بغیر بتائے اہل علم کے لئے جائز ہے۔) (جمل، مقدمۃ، ۱/۳)
مفسر کے لئے ضروری علوم :
	علماءِ کرام نے مفسر کے لئے جن علوم کو ضروری قرار دیا ہے ان میں سے چند یہ ہیں :
	(1)لغت کا علم۔(2)نحو کا علم۔ (3)صرف کا علم۔ (4)اشتقاق کا علم۔ (5،6،7)معانی، بیان اور بدیع کا علم۔(8)قرائتوں کا علم۔(9)اصولِ دین کا علم۔(10)اصولِ فقہ کا علم۔(11)اسبابِ نزول کا علم۔(12) ناسخ اور منسوخ کا علم۔(13) مُجمَل اور مُبہَم کی تفسیر پر مبنی احادیث کا علم۔
	اِن علوم کو سامنے رکھتے ہوئے اُن خواتین وحضرات کو اپنے طرزِ عمل پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنے کی حاجت ہے جو قرآن مجید کا صرف اردو ترجمہ اورتفاسیر کی اردو کتب پڑھ کر ترجمہ و تفسیر کرنا اور اس کے معانی و مطالب بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک اقدام ہے ۔اسے یو ں سمجھئے کہ اگر کوئی شخص از خودمیڈیکل کی کتابیں پڑھ کے اپنا کلینک کھول لے اور مریضوں کا علاج کرنا اور ان کے آپریشن کرنا شروع کردے تو اس کا کیا نتیجہ ہو گا؟ اسی طرح بلکہ