Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
349 - 520
بیوی پر شوہر کے حقوق :
	بیوی پرشوہر کے چند حقوق یہ ہیں : (1)ازدواجی تعلقات میں مُطْلَقاً شوہر کی اطاعت کرنا، (2) اس کی عزت کی سختی سے حفاظت کرنا، (3) اس کے مال کی حفاظت کرنا، (4) ہر بات میں اس کی خیر خواہی کرنا، (5) ہر وقت جائز امور میں اس کی خوشی چاہنا، (6) اسے اپنا سردار جاننا، (7) شوہر کونام لے کر نہ پکارنا، (8) کسی سے اس کی بلا وجہ شکایت نہ کرنا، (9) اور خداتوفیق دے تو وجہ ہونے کے باجود شکایت نہ کرنا، (10) اس کی اجازت کے بغیر آٹھویں دن سے پہلے والدین یا ایک سال سے پہلے دیگر محارم کے یہاں نہ جانا، (11) وہ ناراض ہو تو اس کی بہت خوشامد کرکے منانا۔ (فتاوی رضویہ، ۲۴/۳۷۱، ملخصاً)
{وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ: اور مردوں کو ان پر فضیلت حاصل ہے۔} مرد و عورت دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں لیکن مرد کو بہرحال عورت پر فضیلت حاصل ہے اور اس کے حقوق عورت سے زیادہ ہیں۔ 
اَلطَّلٰقُ مَرَّتَانِ۪ فَاِمْسَاکٌۢ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ تَسْرِیۡحٌۢ بِاِحْسٰنٍؕ وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیْـًٔا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افْتَدَتْ بِہٖؕ تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوۡہَاۚ وَمَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿۲۲۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی  کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ  کی حدیں قائم نہ کریں گے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہی حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے یہ اللہ  کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔