Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
348 - 520
ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت234میں ہے۔ مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ باقی جو آزاد عورتیں ہیں یہاں ان کی عدت اور طلاق کا بیان ہے کہ ان کی عدت تین حیض ہے۔
{وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ: اور انہیں حلال نہیں۔} جس چیز کا چھپانا حلال نہیں وہ حمل اور حیض کا خون ہے۔
(جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۲۲۸، ص۳۴)
	 ان کا چھپانا اس لئے حرا م ہے کہ ان کے چھپانے سے رجوع کرنے اوراولاد کے بارے میں جو شوہر کا حق ہے وہ ضائع ہوگا۔
{اِنۡ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ: اگر اللہ  اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں۔} یہاں بطورِ خاص ایمان کا تذکرہ کرکے یہ سمجھایا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ  تعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کیا جائے۔ لہٰذا ہرنیک عمل کو ایمان کا تقاضا کہہ سکتے ہیں۔ 
{وَبُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ: اور ان کے شوہر اس مدت کے اندر انہیں پھیر لینے کا حق رکھتے ہیں۔} شوہروں کو رجعی طلاق میں عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے ۔آیت میں ’’اَرَادُوۡۤا‘‘ کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ طلاق رجعی میں رجوع کیلئے عورت کی مرضی ضروری نہیں صرف مرد کا رجوع کافی ہے، ہاں ظلم کرنے اور عورت سے اپنے انتقام کی آگ بجھانے کیلئے رجوع کرنا سخت برا ہے۔رجوع اصلاح کی نیت سے ہونا چاہیے۔افسوس کہ ہمارے ہاں اِس جہالت کی بھی کمی نہیں ، بیویوں کو ظلم وستم اور سسرال سے انتقام لینے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے حتیّٰ کہ بعض اوقات تو شادی ہی اس نیت سے کی جاتی ہے اور بعض اوقات رجوع اس نیت سے کیا جاتا ہے۔یہ سب زمانہ جاہلیت کے مشرکوں کے افعال ہیں۔ 
{وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ: اور عورتوں کیلئے بھی شریعت کے مطابق مردوں پر ایسے ہی حق ہے جیسا عورتوں پر ہے۔} یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حقوق کی ادائیگی واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حقوق پورے کرنا لازم ہے۔آیت کی مناسبت سے یہاں ہم شوہر اور بیوی کے چند حقوق بیان کرتے ہیں۔
شوہر پر بیوی کے حقوق:
	شوہر پر بیوی کے چند حقوق یہ ہیں : (1) خرچہ دینا، (2) رہائش مہیا کرنا، (3) اچھے طریقے سے گزارہ کرنا، (4) نیک باتوں ، حیاء اور پردے کی تعلیم دیتے رہنا، (5) ان کی خلاف ورزی کرنے پر سختی سے منع کرنا، (6) جب تک شریعت منع نہ کرے ہر جائز بات میں اس کی دلجوئی کرنا، (7) اس کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنا اگرچہ یہ عورت کا حق نہیں۔