اور آیت میں جو فرمایا کہ عورت کے فدیہ دینے میں کوئی حرج نہیں اس سے یہی صورت مراد ہے لیکن اس صورت میں بھی یہ حکم ہے کہ اگر زیادتی مرد کی طرف سے ہو تو خلع میں مال لینا مکروہ ہے اور اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو مال لینا درست ہے لیکن مہر کی مقدار سے زیادہ لینا پھر بھی مکروہ ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الطلاق، الباب الثامن، الفصل الاول، ۱/۴۸۸)
خلع کے چند احکام:
(1)…بلاوجہ عورت کیلئے طلاق کا مطالبہ کرنا حرام ہے۔ایسی عورتیں اور وہ حضرات درج ذیل3 احادیث سے عبرت حاصل کریں جو عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکاتے ہیں :
(۱)حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جو عورت اپنے شوہر سے بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔(ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب فی الخلع، ۲/۳۹۰، الحدیث: ۲۲۲۶)
(۲)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکائے ۔(ابو داود، کتاب الطلاق، باب فیمن خبب امرأۃ علی زوجہا، ۲/۳۶۹، الحدیث: ۲۱۷۵)
(۳)حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے،پھر وہ اپنے لشکر روانہ کرتا ہے،اس کے نزدیک سب سے زیادہ مقرب وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ ڈالتا ہے۔اس کے لشکر میں سے ایک آ کر کہتا ہے:میں نے ایسا ایسا کیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں سے ایک شخص آ کر کہتا ہے:میں نے ایک شخص کو اس حال میں چھوڑا کہ ا س کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کروا دی۔ابلیس اس کو اپنے قریب کر کے کہتا ہے:ہاں !تم نے کام کیا ہے ۔(مسلم ، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب تحریش الشیطان وبعث سرایاہ لفتنۃ الناس۔۔۔ الخ، ص۱۵۱۱، الحدیث: ۶۷(۲۸۱۳))
(2)…خلع کا معنیٰ: مال کے بدلے میں نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں۔ خلع میں شرط ہے کہ عورت اسے قبول کرے۔
(3)… اگر میاں بیوی میں نا اتفاقی رہتی ہو تو سب سے پہلے میاں بیوی کے گھروالے ان میں صلح صفائی کی کوشش کریں جیسا کہ سورہ نساء آیت 35میں ہے کہ مردو عورت دونوں کی طرف سے پنچ مقرر کیا جائے جو ان کے درمیان صلح صفائی کروا