Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
347 - 520
وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍؕ وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہُ فِیۡۤ اَرْحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِؕ وَبُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوۡۤا اِصْلٰحًاؕ وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالْمَعْرُوۡفِ۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ وَاللہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ﴿۲۲۸﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیااگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین حیض تک روکے رکھیں اور انہیں حلال نہیں کہ اس کوچھپائیں جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا ہے اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس مدت کے اندر انہیں پھیر لینے کا حق رکھتے ہیں اگروہ اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں اور عورتوں کیلئے بھی مردوں پر شریعت کے مطابق ایسے ہی حق ہے جیسا ( ان کا)عورتوں پر ہے اور مردوں کو ان پر فضیلت حاصل ہے اور اللہ  غالب، حکمت والا ہے۔
{وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ:اور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین حیض تک روکے رکھیں۔}اس آیت میں مُطَلَّقہ عورتوں کی عدت کا بیان ہے جن عورتوں کو ان کے شوہروں نے طلاق دی ہواگر وہ شوہر کے پاس نہ گئی تھیں اور ان سے خَلْوَت صحیحہ بھی نہ ہوئی تھی جب تو ان پر طلاق کی عدت ہی نہیں ہے جیسا کہ سورۂ احزاب کی آیت 49 میں ہے اور جن عورتوں کوکم سِنی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہوان کی عدت تین مہینے ہے اور جو حاملہ ہوں ان کی عدت بچہ جننا ہے جیسا کہ ان دونوں کی عدتوں کا بیان سورہ طلاق کی آیت 4 میں ہے اور جس کا شوہر فوت ہوجائے اگر وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت بچہ جننا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا اور اگر فوت شدہ کی بیوی حاملہ نہ ہو تو اس عورت کی عدت 4ماہ، 10دن