Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
346 - 520
لِلَّذِیۡنَ یُؤْلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍۚ فَاِنْ فَآءُوۡفَاِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۲۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھابیٹھیں ان کیلئے چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں وہ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{لِلَّذِیۡنَ یُؤْلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمْ:اور وہ جو اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھابیٹھیں۔} یہ قسم کھانا کہ میں اپنی بیوی سے چار مہینے تک یا کبھی صحبت نہ کروں گا اسے اِیلاء کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم توڑدے اور چار ماہ کے اندر صحبت کرلے تب تو اس پر قسم کا کفارہ واجب ہے ورنہ چار ماہ کے بعد عورت کو طلاق بائنہ پڑ جائیگی اس آیت میں اسی کا بیان ہے۔ ایلاء کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت،حصہ8سے ’’ایلاء کا بیان‘‘مطالعہ فرمائیں۔
وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلٰقَ فَاِنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ﴿۲۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزالعرفان:اور اگر وہ طلاق کاپختہ ارادہ کرلیں تو اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
{وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلٰقَ: اور اگر وہ طلاق کاپختہ ارادہ کرلیں۔} زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ معمول تھا کہ اپنی عورتوں سے مال طلب کرتے، اگر وہ دینے سے انکار کرتیں تو ایک سال، دو سال ،تین سال یا اس سے زیادہ عرصہ ان کے پاس نہ جانے اور صحبت ترک کرنے کی قسم کھالیتے اور انہیں پریشانی میں چھوڑ دیتے نہ تووہ بیوہ ہوتیں کہ کہیں اپنا ٹھکانہ کر لیتیں اورنہ شوہر دار کہ شوہر سے کچھ سکون حاصل کرتیں۔اسلام نے اس ظلم کو مٹایا اور ایسی قسم کھانے والوں کے لیے چار مہینے کی مدت معین فرما دی کہ اگر عورت سے چار مہینے یا اس سے زائد عرصہ کے لیے یا غیر معین مدت کے لیے ترکِ صحبت کی قسم کھا لے جس کو ایلا کہتے ہیں تو اس کے لیے چار ماہ انتظار کی مہلت ہے اس عرصہ میں خوب سوچ سمجھ لے کہ عورت کو چھوڑنا اس کے لیے بہتر ہے یا رکھنا، اگر رکھنا بہتر سمجھے اور اس مدت کے اندر رجوع کرے تو نکاح باقی رہے گا اور قسم کا کفارہ لازم ہو گا اور اگر اس مدت میں رجوع نہ کیا اورقسم نہ توڑی تو عورت نکاح سے باہر ہوگئی اور اس پر طلاق بائن واقع ہوگئی۔ یہ حکم بھی عورتوں پر اسلام کے احسانات میں سے ایک احسان اور حقوقِ نسواں کی پاسداری کی علامت ہے۔ (1)
1:طلاق کے مسائل سیکھنے کے لئے رسالہ،،طلاق کے آسان مسائل،، (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ کیجئے۔