Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
345 - 520
بلکہ وہ نیک کام کرے اور قسم کا کفارہ دے ۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: جس شخص نے کسی امر پر قسم کھالی پھر معلوم ہوا کہ خیر اور بہتری اس کے خلاف میں ہے تو چاہیے کہ اس امرِ خیر کو کرلے اور قسم کا کفارہ دے۔(مسلم، کتاب الایمان، باب ندب من حلف یمیناً۔۔۔ الخ،  ص ۸۹۸، الحدیث: ۱۲(۱۶۵۰))
	یہی حکم سورہ نور آیت نمبر 22میں بھی مذکور ہے۔ 
لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمٰنِکُمْ وَلٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوۡبُکُمْؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ﴿۲۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ تمہیں نہیں پکڑ تا ان قَسَموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دل نے کئے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ ان قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرمائے گاجو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جن کا تمہارے دلوں نے قصد کیا ہو اور اللہ بہت بخشنے والا،بڑا حلم والا ہے۔
{لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمٰنِکُمْ: اور اللہ  ان قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرمائے گاجو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ۔} قسم تین طرح کی ہوتی ہے:(۱) لَغو ۔(۲) غموس۔ (۳) مُنعقدہ ۔
(1)… لغویہ ہے کہ کسی چیز کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھائی اور درحقیقت وہ اس کے خلاف ہو یہ معاف ہے اور اس پر کفارہ نہیں۔
(2)… غموس یہ ہے کہ کسی گزری ہوئی چیز پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے، یہ حرام ہے اور احادیث میں اس پر سخت وعیدیں ہیں۔
(3)… منعقدہ یہ ہے کہ کسی آئندہ چیزپر قسم کھائے، اس قسم کو اگر توڑے تو بعض صورتوں میں گنہگار بھی ہے اور کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰیعَلَیْہِفرماتے ہیں : ’’قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو کمی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھانی نہ چاہیے اور بعض لوگوں نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھا ہے کہ قصد و بے قصد زبان سے جاری ہوتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی، یہ سخت معیوب ہے۔(1)         (بہار شریعت، حصہ نہم، قسم کا بیان، ۲/۲۹۸)
1: قسم کے مسائل جاننے کے لئے امیرِ اہلِسنّتدَامَت بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے،، قسم کے بارے میں سوال جواب،،(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ کیجئے۔