اولاد کوشیطان سے محفوظ رکھنے کی دعا:
حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو کہے:
’’بِسْمِ اللہِ اَللّٰہُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ‘‘
اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ!عَزَّوَجَلَّ، ہمیں شیطان سے محفوظ رکھنا اور اس کو بھی شیطان سے محفوظ رکھنا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔
پس (یہ دعا پڑھنے کے بعد صحبت کرنے سے) جو بچہ انہیں ملا اسے شیطان نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
(بخاری، کتاب الوضوئ، باب التسمیۃ علی کلّ حال وعند الوقاع، ۱/۷۳، الحدیث: ۱۴۱)
وَ لَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَیۡمٰنِکُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصْلِحُوۡا بَیۡنَ النَّاسِؕ وَاللہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ﴿۲۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ کو اپنی قَسَموں کا نشانہ نہ بنالو کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ کے نام کو احسان کرنے اور پرہیزگاری اختیارکرنے او ر لوگوں میں صلح کرانے میں آڑنہ بنالواور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
{وَ لَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَیۡمٰنِکُمْ: اور اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ کے نام کو آڑنہ بنالو۔} حضرت عبد اللہبن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے قسم کھائی تھی کہ میں اپنے بہنوئی حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نہ کلام کروں گا نہ ان کے گھر جاؤں گا اورنہ ان کے مخالفین سے ان کی صلح کراؤں گا۔ جب اس کے متعلق ان سے کہا جاتا تو وہ کہتے کہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لیے یہ کام کر ہی نہیں سکتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۴، ۱/۱۶۴)
اور نیک کام نہ کرنے کی قسم کھانے سے منع کردیا گیا۔
نیکی سے باز رہنے کی قسم کھانے والے کو کیا کرنا چاہئے:
یہاں ایک اہم مسئلہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی شخص نیکی سے باز رہنے کی قسم کھالے تو اس کو چاہیے کہ قسم کو پورا نہ کرے