Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
32 - 520
’’ وَ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمْ‘‘                   (نحل : ۴۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں سے وہ بیان کردو جو اُن کی طرف نازل کیا گیا ہے۔
	اور ارشاد فرماتا ہے:
 ’’ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ ٭ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۲﴾‘‘  (سورۂ جمعہ:۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی (اللہ)ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتاہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
 دوسرا دور:
	جب سرکارِ دو عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے وصال فرمایا توصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا مقدس زمانہ آیا اور یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے براہِ راست سیدُ المرسلین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے قرآن عظیم کی تعلیم حاصل کی، ان میں سے بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایسے تھے جنہوں نے ا س کام کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی ۔انہوں نے اہلِ زبان ہونے اور نزولِ قرآن کے ماحول سے پوری طرح واقف ہونے کے باوجود اپنی زبان دانی پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے قرآن مجید سیکھا اور اس کے اَسرار و رُموز کی معلومات حاصل کیں۔ مشہور تابعی عالم حضرت ابوعبد الرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں سے جو حضرات ہمیں قرآن عظیم کی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ رسولاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے دس آیتیں سیکھتے اور اس وقت تک ان سے آگے نہیں بڑھتے تھے جب تک ہم ان آیات کی تما م علمی اور عملی باتوں کا علم حاصل نہ کر لیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب فضائل القرآن، فی تعلیم القرآن کم آیۃ، ۷/۱۵۲، الحدیث: ۱)
	اور حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جب کوئی شخص (نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے) سورۂ بقرہ اور سورۂ اٰلِ عمران پڑھ لیتا تو وہ ہماری نظروں میں بہت قابلِ احترام ہوجاتا تھا۔ 
(شرح السنہ، کتاب الفضائل، باب علامات النبوۃ، ۷/۷۶، الحدیث: ۳۶۱۹)
	اس دور میں جب لوگوں کو قرآنی آیات کے معنی سمجھنے میں مشکل ہوئی تو انہوں نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی بارگاہ میں حاضری دی اور چشمہ ِرسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے فیضیاب ہونے والی ان ہستیوں سے مطالب ِ