Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
31 - 520
 سورتیں ایک مصحف میں جمع کر دی جائیں ،پھر وہ مَصاحف اسلامی شہروں میں بھیج دئیے جائیں اور سب کو حکم دیاجائے کہ وہ اسی لہجے کی پیروی کریں اور اس کے خلاف اپنے اپنے طرز ادا کے مطابق جو صحائف یا مصاحف بعض لوگوں نے لکھے ہیں فتنہ ختم کرنے کے لئے وہ تلف کر دئیے جائیں۔ چنانچہ اسی درست رائے کی بنا ء پرامیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے وہ صحائف منگوائے اور ان کی نقلیں تیار کر کے تمام شہروں میں بھیج دی گئیں۔اسی عظیم کام کی وجہ سے امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ’’جامعُ القرآن ‘‘ کہا جاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ،۲۶/۴۳۹-۴۵۲، ملخصاً)
 تفسیرِ قرآن کی تاریخ: 
	تفسیرِقرآن کی تاریخ تقریباً چار ادوار پر مشتمل ہے جو کہ درج ذیل ہیں :
پہلا دور:
	قرآنِ مجید روشن عربی زبان میں اور لغتِ عرب کے اسلوب اور بیان کے مطابق نازل ہوا، اس لئے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اس عظیم کلام کو سمجھ لیتے اور انہیں اس کے اغراض و مقاصد معلوم ہو جاتے لیکن چونکہ تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم علمی اور عقلی اعتبار سے ایک جیسے نہ تھے بلکہ علم و فہم کے لحاظ سے ان کے مَراتب میں فرق تھاا س لئے جب کسی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو قرآنِ مجید کے کسی لفظ کے معنی سمجھنے میں دشواری ہوتی تو وہ بارگاہ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ میں حاضر ہو کر عرض کردیتے اور حضور پُرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ا س کے معنی بیان فرما کر ان کی تَشَفِّی فرما دیتے، اسی طرح بعض اوقات سیدُ المرسلین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ خود ہی قرآنی آیات کے معنی بیان فرما دیتے اور یہی وہ دور ہے جس میں قرآنِ مجید کی تفسیر بیان کرنے کی ابتداء ہوئی ۔
	اس مرحلے میں سب سے پہلے قرآنِ مجید کی تفسیر اور اس کے معانی اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے بیان فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام کی مراد کو سب سے زیادہ جانتا ہے اور اس کے بعد تاجدار رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے سامنے قرآنِ عظیم کی تفسیر بیان فرمائی ۔اللہ تعالیٰ اپنے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اس منصب کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: