میں اپنی بڑائی سمجھتے، اس آیت میں انہیں حکم دیا گیا کہ وہ بھی سب کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور ایک ساتھ واپس لوٹیں۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۹، ۱/۱۴۱)
یہی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے ۔
اسلامی احکام سب کے لئے برابر ہیں :
اس سے معلوم ہواکہ اسلامی احکام برادریوں کے اعتبار سے نہیں بدلتے اور نہ ہی کسی کے رتبے اور مقام کی وجہ سے ان میں تبدیلی ہوتی ہے بلکہ امیر و غریب، گورے کالے، عربی عَجمی سب کے لئے اسلام کے احکام برابر ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :قریش ایک مخزومی عورت کے بارے میں بہت ہی پریشان تھے جس نے چوری کی تھی، لوگ کہنے لگے کہ اس بارے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے گفتگو کون کرے؟ بعض آدمیوں نے کہا کہ حضرت اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سواء ا یسی جرأت اور کون کر سکتا ہے کیونکہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چہیتے ہیں۔جب حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس بارے میں حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے گفتگو کی تو آپ نے فرمایا:’’کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟پھر آ پ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا:’’بے شک تم سے پہلے لوگ اسی لئے ہلاک ہوئے تھے کہ جب کوئی مالدار چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی غریب آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔خدا کی قسم!اگرمحمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۵۶-باب، ۲/۴۶۸، الحدیث: ۳۴۷۵)
تاریخ اسلام میں مسلمان قاضیوں کے ایسے بے شمار واقعات موجودہیں جس میں انہوں نے کسی کے رتبے اور قرابت داری کی پرواہ کئے بغیر شریعت کے احکام کو نافذ کیا،انہی واقعات میں سے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔چنانچہ حضرت سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خلیفہ ولید بن یزید کی طرف سے مدینہ منورہ کے قاضی مقرر تھے ۔ایک مرتبہ ولید نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اپنے پاس ملک شام میں بلایا، چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک بااعتماد شخص کو مدینہ منورہ میں قاضی بناکر خود ملک شام کی جانب چل دیئے۔ جب آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شام کی سر حد پر پہنچے تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو شہر سے باہر ہی روک دیا گیااور کافی عرصہ تک داخلہ کی اجازت نہ ملی ۔ ایک رات آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مسجد میں مصروف عبادت تھے کہ ایک شخص کو دیکھا کہ نشے کی حالت میں بدمست ہے او رمسجد میں گھوم رہا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ