Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
318 - 520
نام عرفا ت ہوا۔				    (تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الایۃ: ۱۹۸، ۱/۳۲۰، الجزء الثانی)
	ایک قول یہ ہے کہ چونکہ اس روز بندے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اس لئے اس دن کا نام عرفہ ہے۔ 
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۸، ۱/۱۴۰)
 	حاجی کیلئے9ذی الحجہ کے زوالِ آفتاب سے لے کر 10ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے تک کم از کم ایک لمحے کیلئے عرفات میں وقوف فرض ہے ۔					    (بہار شریعت،حصہ ششم، ۱/۱۱۴۷)
	اور 9تاریخ کواتنی دیر وقوف کرنا کہ وہیں سورج غروب ہوجائے یہ واجب ہے۔ 
(عالمگیری، کتاب المناسک، الباب الخامس، ۱/۲۲۹)
{عِنۡدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ: مشعر حرام کے پاس۔}مَشْعَرِحرام مُزدلفہ میں وہ جگہ ہے جہاں امامِ حج وقوفِ مزدلفہ کرتا ہے۔ مزدلفہ میں واقع وادی مُحَسِّرْکے سوا تمام مزدلفہ وقوف کا مقام ہے ۔ مزدلفہ میں رات گزارنا سنت ہے اور فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر طلوعِ آفتاب کے دوران کم از کم ایک لمحے کیلئے وہاں ٹھہرنا واجب ہے ۔ بغیر عذر وقوفِ مزدلفہ ترک کرنے سے د م لا زم آتا ہے اور مشعر حرام کے پاس وقوف افضل ہے ۔مزدلفہ میں وقوف کے دوران تَلْبِیَہ، تہلیل و تکبیر اور ثناء و دعا وغیرہ میں مشغول رہنا چاہیے۔ 9ذوالحجہ کو مزدلفہ میں نما زِ مغرب وعشاء کو ملا کر عشاء کے وقت میں پڑھنا ہوتا ہے۔ 
{وَاذْکُرُوۡہُ: اور اسے یاد کرو۔} فرمایا گیا کہ تم ذکر و عبادت کا طریقہ نہ جا نتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ذریعے تمہیں عبادت کے طریقے سکھائے لہٰذا اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو ۔
ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنْ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللہَؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۹۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ  بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر (اے قریشیو!) تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے دوسرے لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے مغفرت طلب کرو ،بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنْ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ: پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے دوسرے لوگ پلٹتے ہیں۔}  قریش مزدلفہ میں ٹھہرے رہتے تھے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف نہ کرتے، جب لوگ عرفات سے پلٹتے تو یہ مزدلفہ سے پلٹتے اور اس