Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
320 - 520
نے پوچھا : ’’یہ شخص کون ہے ؟ لوگو ں نے بتا یا: یہ خلیفہ ولید بن یزید کا ماموں ہے، اس نے شراب پی ہے اور اب نشے کی حالت میں مسجد کے اندر گھوم پھر رہا ہے۔ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بہت جلال آیا کہ یہ کتنی دیدہ دِلیری سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہا ہے اور اس کے پاک دربار میں ایسی گندی حالت میں بے خوف گھوم پھر رہا ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے غلام کودُرَّہ لانے کا حکم فرمایا۔ غلام نے درہ (کوڑا) دیا ۔ درہ لے کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا:’’ مجھ پر لازم ہے کہ میں اس پر شرعی سزا نافذ کروں چاہے یہ کوئی بھی ہو، اسلام میں سب برابر ہیں۔ چنانچہ آپ آگے بڑھے اور مسجد میں ہی اس کو80 کوڑے مارے ۔ وہ شخص80کوڑے کھانے کے بعد نہایت زخمی حالت میں خلیفہ ولید بن یزید کے پاس پہنچا۔ خلیفہ نے جب اپنے ماموں کی یہ حالت دیکھی تو بہت غضبناک ہوا اور پوچھا’’ تمہاری یہ حالت کس نے کی؟ کس نے تمہیں اِتنا شدید زخمی کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا: ایک شخص مدینہ منورہ سے آیا ہوا تھا، اس نے مجھے80کوڑے سزا دی اور کہا: ’’یہ سزا دینا اور حد قائم کرنا مجھ پر لازم ہے۔ خلیفہ نے جب یہ سنا تو اس نے فوراً حکم دیا کہ ہماری سواری تیار کی جائے، اسی وقت حکم کی تعمیل ہوئی اور خلیفہ کچھ سپاہیوں کو لے کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس پہنچ گیا اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کہا :’’ اے ابو اسحاق ! تو نے میرے ماموں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا، اسے اتنی درد ناک سزا کیوں دی؟ حضرت سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا:’’ اے خلیفہ! تونے مجھے قاضی بنایا تا کہ میں شریعت کے احکام نافذ کروں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دوں۔ چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ سرعام اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہے اور یہ شخص نشے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں گھوم پھر رہا ہے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں تو میری غیرت ایمانی نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی دیکھوں اور تمہاری قرابت داری کی وجہ سے چشم پوشی کروں اور شرعی حدو د قائم نہ کروں۔
(عیون الحکایات، الحکایۃ الرابعۃ والاربعون بعد  المائۃ، ص۱۶۳-۱۶۴، ملتقطاً)
فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًاؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنْ خَلٰقٍ﴿۲۰۰﴾ ترجمۂکنزالایمان: پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔