Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
317 - 520
ہے۔ جو اللہ  تعالیٰ سے نہ ڈرے وہ بے عقلوں کی طرح ہے۔ عقل وہی ہے جو اللہ  تعالیٰ سے خوف پیدا کرے اورجس عقل سے آدمی بے دین ہو وہ عقل نہیں بلکہ بے عقلی ہے ۔ ابو جہل بے عقل تھا اور حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عقلمند تھے ۔
لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَبْتَغُوۡا فَضْلًا مِّنۡ رَّبِّکُمْؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمۡ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا اللہَ عِنۡدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ۪ وَاذْکُرُوۡہُ کَمَا ہَدٰىکُمْۚ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیۡنَ﴿۱۹۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو تو جب عرفات سے پلٹو تو اللہ کی یاد کرو مشعر حرام کے پاس اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک تم اس سے پہلے بہکے ہوئے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو اور اس کا ذکر کروکیونکہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اگرچہ اس سے پہلے تم یقینابھٹکے ہوئے تھے۔
{لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَبْتَغُوۡا فَضْلًا مِّنۡ رَّبِّکُمْ: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ }شان نزول: بعض مسلمانوں نے خیال کیا کہ راہِ حج میں جس نے تجارت کی یا اونٹ کرایہ پر چلائے اس کا حج ہی ضائع ہوگیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ابو داؤد، کتاب المناسک،باب الکریّ، ۲/۱۹۸، الحدیث: ۱۷۳۳) 
	اس سے معلوم ہوا کہ جب تک تجارت سے افعال حج کی ادا میں فرق نہ آئے اس وقت تک تجارت کی اجازت ہے۔نیز یہاں مال کو ربعَزَّوَجَلَّ کافضل قرار دیا ہے،اس سے معلوم ہوا کہ مال فی نفسہ بری چیز نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال برا ہے۔ ہزاروں نیکیاں صرف مال کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہیں جیسے زکوٰۃ و صدقات و حج و عمرہ وغیرہ۔
{فَاِذَاۤ اَفَضْتُمۡ مِّنْ عَرَفٰتٍ: تو جب تم عرفات سے واپس لوٹو۔} عرفات ایک مقام کا نام ہے جوحج میں وقوف (یعنی ٹھہرنے) کی جگہ ہے ۔ مشہور مفسر ضحاک کا قول ہے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حوا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا جدائی کے بعد 9ذی الحجہ کو عرفات کے مقام پر جمع ہوئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو پہچانا اس لیے اس دن کا نام عرفہ اور مقام کا