(3)… مسکینوں پر خرچ کرنا۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مسکین وہ نہیں جو لوگوں میں گھومتا رہتا ہے اور ایک لقمہ یا دو لقمے اور ایک کھجور یا دو کھجوریں لے کر چلا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی :یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، پھرمسکین کون ہے؟ ارشاد فرمایا جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اس کی ضروریات سے اسے مستغنی کر دے اور نہ اس کے آثار سے مسکینی اور فقر کا پتا چلے تاکہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب المسکین الذی لا یجد غنی۔۔۔ الخ، ص۵۱۷، الحدیث: ۱۰۱(۱۰۳۹))
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ ایک لقمہ روٹی اور ایک مُٹھی خُرما اور اس کی مثل کوئی اور چیز جس سے مسکین کو نفع پہنچے، اُن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تین شخصوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے، ایک صاحب خانہ جس نے حکم دیا، دوسری زوجہ کہ اسے تیار کرتی ہے، تیسرے خادم جو مسکین کو دے کر آتا ہے، پھر حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: حمد ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے جس نے ہمارے خادموں کو بھی نہ چھوڑا۔ (یعنی رحمت سے محروم نہ چھوڑا۔) (معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴/۸۹، الحدیث: ۵۳۰۹)
(4)… مسافروں پر خرچ کرنا۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ مومن کو اس کے عمل اور نیکیوں سے مرنے کے بعد بھی یہ چیزیں پہنچتی رہتی ہیں۔ علم جس کی اس نے تعلیم دی اور اشاعت کی ۔ نیک اولاد جسے چھوڑ کر مرا ہے یا مُصحف جسے میراث میں چھوڑا یا مسجد بنائی یا مسافر کے لیے مکان بنادیا نہر جاری کردی یا اپنی صحت اور زندگی میں اپنے مال میں سے صدقہ نکال دیا جو اس کے مرنے کے بعد اس کو ملے گا۔
(ابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب ثواب معلّم الناس الخیر، ۱/۱۵۷، الحدیث: ۲۴۲)
(5)…سائلوں کو دینا۔ یاد رہے کہ صرف ا س سائل کو اپنا مال دے سکتے ہیں جسے سوال کرنا شرعی طور پر جائز ہو جیسے مسکین، جہاد اور علم دین حاصل کرنے میں مشغول افراد وغیرہ، اور جسے سوال کرنا جائز نہیں اس کے سوال پر اسے دینا بھی ناجائز ہے اور دینے والا گناہگار ہو گا، البتہ بعض لوگوں کو سوال کرنا جائز نہیں ہوتا لیکن ضرورت مند ہوتے ہیں انہیں بغیر مانگے دینا جائز ہے جیسے فقیر۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمیرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اوروں کو کھلائیں ، مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے، کون محنت کرے مصیبت