وَسَلَّمَ پر نازل ہوئی اور اس کے علاوہ حضرت شِیث، حضرت ادریس ،حضرت آدم اورحضرت ابراہیم عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر بہت سے صحیفے نازل ہوئے۔
پانچواں تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانا کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں اور معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہیں۔ان کی صحیح تعداد اللہ تعالیٰ جانتا ہے ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۷، ص۴۷-۴۸)
یاد رہے کہ ایمان مفصل جو بچوں کو سکھایا جاتا ہے، اس کی اصل یہ آیت بھی ہے اور اس کے علاوہ دوسری آیات بھی ہیں۔
{وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ: اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے۔}اس سے پہلے ایمان کا بیان ہوا اور اب اعمال کا ذکر کیا جا رہا ہے اورآیت کے اس حصے میں نیکی کا دوسرا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مستحق افراد کو اپنا پسندیدہ مال دیا جائے۔
مال کے مستحق افراد اور انہیں مال دینے کے فضائل کا بیان:
اس آیت میں مال دینے کے 6 مَصرف ذکر فرمائے گئے ہیں :۔
(1)… رشتہ داروں پر خرچ کرنا۔ حضرت سلمان بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،تاجدار رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو ثواب ہیں ایک صدقہ کرنے کا اورایک صلہ رحمی کرنے کا۔
(ترمذی، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء فی الصدقۃ علی ذی القرابۃ، ۲/۱۴۲، الحدیث: ۶۵۸)
حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،سرکار دو عالم صَلَّیاللہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’سب سے ا فضل صدقہ کنارہ کشی اختیار کرنے والے مخالف رشتہ دار پر صدقہ کرنا ہے۔
(معجم الکبیر، حکیم بن بشیر عن ابی ایوب، ۴/۱۳۸، الحدیث: ۳۹۲۳)
(2)… یتیموں پر خرچ کرنا۔ جس نابالغ شخص کے باپ کا انتقال ہو چکا ہو اسے یتیم کہتے ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: کہ ’’جو شخص یتیم کی کفالت کرے، میں اور وہ کفالت کرنے والادونوں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ حضورا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ کیا۔(بخاری، کتاب الادب، باب فضل من یعول یتیماً، ۴/۱۰۱، الحدیث: ۶۰۰۵)