Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
285 - 520
جھیلے، بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے۔ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لیے بے عزتی و بے غیرتی ہے مایۂ عزت جانتے ہیں اور بہت ساروں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے، گھر میں ہزاروں روپے ہیں ، سود کا لین دین کرتے، زراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں۔ حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو، اُسے جائز نہیں کہ ان کو دے۔     (بہار شریعت، حصہ پنجم، سوال کسے حلال ہے اور کسے نہیں ، ۱/۹۴۰-۹۴۱)
(6)… گردنیں چھڑانے میں خرچ کرنا۔ گردنیں چھڑانے سے غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنا مراد ہے۔ حضرت ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو مسلمان مرد کسی مسلمان مرد کو آزاد کرے گا، اللہ تعالیٰ غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے نجات دے گا۔ حضرت سعید بن مرجانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں :جب میں نے حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ حدیث سنی اورمیں نے جا کر ا س کا ذکر حضرت علی بن حسین رَضِیَاللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے کیا تو انہوں نے اپنے ایک ایسے غلام کو آزاد کر دیا جس کی حضرت عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار قیمت دے رہے تھے۔(مسلم، کتاب العتق، باب فضل العتق، ص۸۱۲، الحدیث: ۲۴(۱۵۰۹))
	یہاں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اگر صدقات ِ واجبہ ہوں تو اس کے دیگر احکام کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ 
راہ خدا میں کیسا مال دینا چاہئے ؟
	 اللہ تعالیٰ کی راہ میں رضائے الٰہی کی خاطر پیارا مال دینا چاہیے نیز زندگی و تندرستی میں دے جب خود اسے بھی مال کی ضرورت ہو کیونکہ اس وقت مال زیادہ پیارا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا وصف بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾(دہر:۸،۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں خاص اللہ کی رضاکے لیے کھانا کھلاتے ہیں ، ہم تم سے کوئی بدلہ یا شکر یہ نہیں چاہتے۔