(2)…خون: خون ہر جانور کا حرام ہے جبکہ بہنے والا خون ہو ۔ سورہ اَنعام آیت 145میں فرمایا :’’اَوْ دَمًا مَّسْفُوۡحًا‘‘ ’’یا بہنے والا خون‘‘ ذبح کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں باقی رہ جاتا ہے وہ ناپاک نہیں۔
(3)…خنزیر: خنزیر (یعنی سور) نَجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں ، کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ آیت میں اُوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لیے یہاں صرف گوشت کا ذکر ہوا۔
(4)… غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ: اس کا معنی یہ ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا جائے اور جس جانور کو غیراللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ حرام و مردار ہے البتہ اگر ذبح فقط اللہتعالیٰ کے نام پر کیا اور اس سے پہلے یا بعد میں غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا، ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ اپنے ماں باپ کی طرف سے ذبح کررہا ہوں یا جن اولیاء کے لیے ایصال ثواب مقصود ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے، اس میں کچھ حرج نہیں اور ا س فعل کو حرام کہنا اور ایسے جانور کو مردار کہنا سراسر جہالت ہے کیونکہ ذبح سے پہلے یا ذبح کے بعد غیر کی طرف منسوب کرنا ایسافعل نہیں جو کہ حرام ہوجیسے ہم اپنی عام گفتگو میں بہت سی عبادات کو غیر کی طرف منسوب کرتے ہیں ،مثلاً یوں کہتے ہیں کہ ظہر کی نماز،جنازہ کی نماز،مسافر کی نماز،امام کی نماز،مقتدی کی نماز، بیمار کی نماز، پیر کا روزہ،اونٹوں کی زکوٰۃ اور کعبہ کا حج وغیرہ،جب یہ نسبتیں حرام نہیں اور ان نسبتوں کی وجہ سے نماز ،زکوٰۃ اور حج وغیرہ میں کفر و شرک اور حرمت تو درکنار نام کو بھی کراہت نہیں آتی تو کسی ولی یا بزرگ یا کسی اور کی طرف منسوب کر کے فلاں کی بکری کہنا کیسے حرام ہو گیا اور اس سے یہ خدا کے حلال کئے ہوئے جانور کیوں جیتے جی مردار ا ور سور ہو گئے کہ اب کسی صورت حلال نہیں ہو سکتے ۔ جو لوگ انہیں مردار کہتے ہیں وہ شریعت مطہرہ پر سخت جرأت کرتے ہیں۔یاد رکھیں کہ کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کا نام لے کر جانور ذبح نہیں کرتا اور کسی مسلمان کے بارے میں شرعی ثبوت کے بغیر یہ کہنا کہ اس نے غیرُاللہ کانام لے کر جانور ذبح کیا تو یہ بد گمانی ہے اور کسی مسلمان پر بد گمانی کرناحرام ہے اور حتی الامکان اس کے قول اور فعل کو صحیح وجہ پر محمول کرنا واجب ہے اور ذبح کے معاملے میں دل کے ارادے پر اس وقت تک کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا جب تک قائل اپنے ارادے کی تصریح نہ کر دے اور اگر بالفرض بعض نا سمجھ احمقوں پر شرعی ثبوت کے ساتھ ثابت ہو بھی جائے کہ انہوں نے غیرُاللہ کا نام لے کر ذبح کیا اور اس ذبح سے معاذاللہ ان کا مقصود غیر خدا کی عبادت ہے تو کفر کا حکم صرف انہیں پر ہو گا،اُن کی وجہ سے عام حکم لگا دینا اور باقی لوگوں کی بھی یہی نیت سمجھ لینا باطل ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے ربّ تعالیٰ کا نام لے کر