Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
276 - 520
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنۡزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیۡہِؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۱۷۳﴾
 ترجمۂکنزالایمان: اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا تو جو نا چار ہو نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور حرام کئے ہیں جس کے ذبح کے وقت غیرُ اللہکا نام بلند کیا گیا تو جو مجبور ہوجائے حالانکہ وہ نہ خواہش رکھنے والا ہو اور نہ ضرورت سے آگے بڑھنے والاہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں ،بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ: تم پر یہی حرام کئے۔ }کفار نے چونکہ اپنی طرف سے بہت سے جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا جن کا بیان سورۂ مائدہ آیت 103میں آئے گا۔ کفار کی اس حرکت پر فرمایا گیا کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے جیسے بَحیرہ وغیرہ وہ حرام نہیں ، حرام صرف وہ ہیں جو ہم نے فرمادئیے۔یہی مضمون مزید تفصیل کے ساتھ سورۂ مائدہ آیت 3 میں بھی موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چار چیزوں کی تفصیل:
	 یہاں آیت میں چار چیزوں کا بیان ہے: (۱)مردار، (۲)خون، (۳)خنزیر کا گوشت، (۴)غیرُاللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ ان کی تفصیل یہ ہے :
(1)…مردار:جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو شرعی طریقے کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً مسلمان اور کتابی کے علاوہ کسی نے ذبح کیا ہو یا جان بوجھ کر تکبیر پڑھے بغیر ذبح کیا گیا ہو یا گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر، ڈھیلے، غلیل کی گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یاوہ بلندی سے گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے اسے سینگ مارکر مار دیا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اسے مردار کہتے ہیں اور اس کا کھانا حرام ہے البتہ مردار کا دباغت کیا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی ، پٹھے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ،تحت الآیۃ: ۱۷۳، ص۴۴) 
	زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہووہ بھی مردار ہی ہے۔